صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 54
صحيح البخاری جلد ۶۵- کتاب التفسير / الحج یہ سمجھتا ہے کہ اللہ اس کی دنیا و آخرت میں ہر گز مدد نہیں کرے گا تو چاہیے کہ وہ ایک رسی آسمان تک لے جائے اور اس کے ذریعے سے وہاں جا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے تدبیر کرے اور پھر دیکھے کہ آیا اس کی تدبیر اس کے غصے کو دور کر دے گی (یا نہیں)۔یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان سے مدد مل رہی ہے اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے کام میں رکاوٹ ڈالے تو اسے آسمان پر جا کر کوئی تدبیر کرنی چاہیئے۔ثانی عظیفہ : اس کے معنی ہیں کہ اپنے پہلو کو موڑتا ہے۔یعنی تکبر سے کام لیتا ہے۔فرماتا ہے : وَمِنَ النَّاکس مَنْ يُجَادِلُ فِي اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَ لَا كتب مُنِيرِه ثَانَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْىٰ وَنُذِيقَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ ( الحج : ۹، ۱۰) یعنی اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں بغیر علم، اور بغیر ہدایت اور بغیر کسی ایسی کتاب کے جو روشنی بخشنے والی ہو۔اپنے پہلو موڑے ہوئے ہوتے ہیں۔( یعنی متکبر ) تا کہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کریں اسی دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہو گی اور ہم قیامت کے روز انہیں عذاب حریق چکھائیں گے (یعنی بہت بڑی آگ کی سزا ہو گی۔) یہ معنی اور سابقہ لفظ کے معنی دونوں حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔سابقہ لفظ کے معنی عبد بن حمید کے ذریعہ سے بسند تمیمی اور دوسرے لفظ کے معنی ابن مندر سے بسند علی بن ابی طلحہ بیان ہوئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۰) تذھل کے معنی ہیں کہ مشغول ہونے کی وجہ سے (اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی۔لفظ ڈھول کا یہی مفہوم ہے جو ابو عبیدہ نے ایک مصرع کے حوالے سے نقل کیا ہے: صَحَا قَلْبُهُ يَا عَزُّ أَوْ كَادَ يَذْهَلُ اے عزہ ! اس کا دل محبت سے خالی ہو گیا ہے یا قریب ہے وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائے۔ڈھول کے اس مفہوم میں دہشت اور حیرت پائی جاتی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۰) بَاب ۱ : وَتَرَى النَّاسَ سُكراى (الحج: ۳) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور تو دیکھے گا لوگوں کو کہ مدہوش ہیں ٤٧٤١: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۴۷۴۱: عمر بن حفص بن غیاث ) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اعمش نے ہم أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سے بیان کہ ابو صالح نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نبی کریم صلی الم نے فرمایا: اللہ عزو جل قیامت کے آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ دن فرمائے گا: اے آدم ! وہ کہیں گے تیرے حضور فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ حاضر ہوں اے ہمارے رہے! اور تیری خدمت میں