صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۵۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الحج مشید کے معنی ہیں سیمنٹ اور چونے سے تعمیر شدہ مضبوط عمارت ۔ قتادہ سے قصر تمشید کے معنی مضبوط قلعے اور محفوظ پناہ گاہیں مروی ہیں۔ طبری نے پہلے معنوں کے تعلق میں امراء القیس کا یہ شعر نقل کیا ہے : وَتَيْمَاءَ لَمْ يَتْرُكْ بِهَا جِذْعَ نَخْلَةٍ وَلَا أَجْمًا إِلَّا مَشِيدًا بِجَنْدَلِ اور تیاء میں کھجور کا تنا تک نہیں چھوڑا گیا اور نہ جنگل کا کوئی درخت۔ صاف میدان کر دیا گیا جہاں بڑے بڑے مضبوط بنے ہوئے محل کھڑے ہیں۔ مورخین نے شداد بن عاد کے قلعوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ باوجود نہایت پختہ تعمیر شدہ ہونے کے آخر بر باد و ویران اور سنسان ہو گئے کہ وہاں جانے سے بھی ڈر لگتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہیں جنوں کی کمین گاہیں ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۶۰،۵۵۹) وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ سے مراد قرآن ہے جس کی طرف بذریعہ الہام مؤمنوں کی راہنمائی کی گئی۔ وَهُدُوا إِلى صِرَاطِ الْحَمِيدِ سے مراد اسلام ہے جو خدائے حمید کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ روایت زیر باب اسے پایا جاتا ہے کہ اس سورۃ کا تعلق بھی سابقہ سورتوں کے موضوع سے ہی ہے۔ جن میں دجال اور یا جوج ماجوج کی فتنہ پردازی کا ذکر ہے۔ مذکورہ بالا مفہوم حضرت ابن عباس سے بواسطہ علی بن ابی طلحہ منقول ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۶۰) پوری آیت یہ ہے : وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (الحج: ۲۵) اور انہیں پاکیزہ قول طرف راہنمائی کی گئی اہے ہے ! اور خدائے حمید کے راستے کی طرف راہنمائی کی گئی (جو صراط مستقیم ہے ہے ! اور ہر خوبی اس کی میں پائی جاتی ہے۔) ہیں حدود ہے تجاوز کرتے يَسْطُونَ : سَطْوَةٌ مصدر سے صیغہ مضارع غائب جمع مذکر - جمع مذکر سالم ہے۔ بمعنی افراط یعنی ۔ اور يَسْطُونَ کے معنی يَبْطِشُونَ بھی کئے گئے ہیں یعنی پکڑتے ہیں۔ فرماتا ہے : وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ أَيْتُنَا بَيِّنَتِ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ أَيْتِنَا قُلْ أَفَانَبِّئُكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذَلِكُمْ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (الحج : ۷۳) اور جب ان کے سامنے : اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو تو منکروں کے چہروں میں ناپسندیدگی کا اثر معلوم کرتا۔ م کرتا ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں پر حملہ کر دیں جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہوتے ہیں۔ تو کہہ دے کیا میں تم کو اس حالت سے بھی ایک بُری حالت کی خبر دوں، آگ ہے۔ اللہ نے اس کا منکروں ۔ ، سے وعدہ ہ کیا ہے اور وہ بہت ہی بہ ہی برا انجام ہے جس کی طرف انہیں اپنی بد اعمالی کی وجہ سے لوٹنا ہو گا۔ کفار قریش صحابہ کو آیات اللہ کی تلاوت کرتے سن پاتے تو مارے غصے کے اُن کی طرف لپکتے۔ ان کی اسی چیرہ دستی کا آیت میں ذکر ہے۔ بسبب: حضرت ابن عباس نے کہا کہ سبب کے معنی ہیں رسی، اور بسبب سے مراد یہ ہے کہ رسی گلے میں ڈال کر چھت سے لٹک جائے۔ جائے۔ اس ا لفظ سے اس آیت کی طرف اثر اشارہ ہے : مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ اللهُ ۔ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرُ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ (الحج: ۱۶) یعنی جو