صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 52
صحیح البخاری جلد ۵۲ ۶۵ - كتاب التفسير / الحج س اس لئے محسوس ہوئی ہے کہ کلبی نے جو متروک راوی ہے اور مسلمہ طور پر غیر معتبر ہے بواسطہ ابو صالح حضرت ابن عباس سے تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى والی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیم سورۃ ہے کہ رسول اللہ صلی علی کیم سورہ نجم کی آیات أَفَرَوَيْتُمُ اللَّهَ وَالْعُزَّى وَ مَنُوةً الثَّالِثَةَ الأخرى (النجم : ۲۰، ۲۱) تلاوت فرمارہے تھے کہ شیطان نے آپ کی زبان سے تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْأَوْلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَی کے الفاظ نکلوا دیے، جس پر کفار قریش یہ سمجھ کر سجدے میں گر گئے کہ ان کے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے۔ نحاس نے ایک اور سند سے یہی روایت نقل کی ہے جس میں واقدی راوی ہیں۔ کلبی اور واقدی کی نسبت یہ ثابت ہے کہ ان میں سے کسی پر بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۸،۵۵۷) علاوہ ازیں ابن مردویہ دویہ نے بھی اسی قسم کی کمزور مرور سند سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں کلبی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ غرض یہ تینوں راوی (کلبی، ابن مردویہ اور واقدی) نا قابل اعتبار ہیں۔ امام ابن حجر نے ان کمزور روایات کا ذکر تفصیل سے کرنے کے بعد ابو بکر بن عربی کا یہ قول نقل کیا ہے : ذَكَرَ الطَّبَرِيُّ فِي ذَلِكَ رِوَايَاتٌ كَثِيرَةٌ بَاطِلَةٌ لَا أَصْلَ لَهَا وَهُوَ إِطْلَاقَ مَرْدُودٌ عَلَيْهِ۔ یعنی اس تعلق میں طبری نے بہت سی روایتیں نقل کی ہیں جو جھوٹی ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں اور علی الاطلاق قابل رڈ ہیں۔ اور اس طرح عیاض کا یہ قول بھی نقل کیا ہے: لَمْ يُخَرِّجُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الصِّحَّةِ وَلَا رَوَاهُ ثِقَةٌ بِسَنَدٍ سَلِيمٍ مُتَّصِلٍ مَعَ ضَعْفِ نَقَلَتِهِ وَاضْطِرَابِ رِوَايَاتِهِ وَانْقِطَاعِ إِسْنَادِهِ وَكَذَا قَوْلُهُ وَمَنْ حُمِلَتْ عَنْهُ هَذِهِ الْقِصَّةُ مِنَ التَّابِعِينَ وَالْمُفَسِّرِينَ لَمْ يُسْئِدْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ وَلَا رَفَعَهَا إِلَى صَاحِبِ وَأَكْثَرُ الطَّرْقِ عَنْهُمْ فِي ذَلِكَ ضَعِيفَةً وَاهِيَةً یعنی صحیح روایت کرنے والوں میں سے کسی نے یہ قول بیان نہیں کیا اور نہ کسی معتبر راوی نے اسے ایسی سند سے نقل کیا ہے جو صحیح سالم ہو اور متصل ہو۔ مزید بر آں اس قول کے نقل کرنے والے کمزور ہیں اور اس کی روایتیں مضطرب ہیں اور اس کی سند بھی منقطع ہے۔ اور اسی طرح ان کا یہ قول بھی ہے کہ تابعین اور مفسرین میں سے جس سے بھی یہ قصہ بیان کیا گیا ہے ان میں سے کسی سے بھی اس کی سند بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی صحابی تک یہ روایت پہنچائی ہے اور جن ذریعوں سے یہ قول نقل کیا گیا ہے وہ نہایت ہی کمزور اور بودے ہیں۔ اور عیاض نے ہزار کا حوالہ بھی دیا ہے اور لکھا ہے وَقَدْ بَيَّنَ الْبَزَّارُ أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ مِنْ طَرِيقِ يَجُوزُ ذِكْرُهُ إِلَّا طَرِيقِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَعَ الشَّكِ الَّذِي وَقَعَ فِي وَصْلِهِ ( مع البارى جزء ۸ صفحه (۵۵۸) یعنی بزار نے پورے طور پر وضاحت سے بیان کیا ہے کہ انہیں کوئی سند نہیں ملی جس کا ذکر کرنا جائز ہو، سوائے ابو بشر کی روایت کے جو انہوں نے سعید بن جبیر سے نقل شدہ بتائی ہے لیکن اس سند کے موصول ہونے میں شک ہوا ہے۔ امام ابن حجر اس تعلق میں لکھتے ہیں کہ ایسی کمزور و غلط روایت کو شہرت کیسے حاصل ہوئی، کوئی نہ کوئی اس کی وجہ معلوم ہوتی ہے اور یہ قیاس کیا ہے کہ سورہ نجم کی تلاوت کے دوران کفار قریش فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا (النجم : ۶۳) سنتے ہی بے اختیار سجدہ میں گرے اور بعد میں جب انہیں طعنہ دیا گیا تو انہوں نے یہ بات بنائی کہ مناہ و عربی کی بھی تعریف کی گئی تھی کہ یہ دیویاں بھی بہت بلند پایہ ہستیاں ہیں جن کی سفارش مطلوب و پر امید ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۸) اس سے غلط روایات کا سلسلہ چل پڑا۔