صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 51 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 51

صحيح البخاری جلد ۵۱ ۶۵ - کتاب التفسير / الحج الْمُخْبِتِین کے معنی جو الْمُطْمَئِنِینَ یعنی تسلی یافتہ کئے گئے ہیں، یہ عبد اللہ بن ابی نجیح نے مجاہد سے نقل کئے ہیں اور انہی سے ایک راوی نے الْمُصَلِّينَ یعنی نمازی روایت کئے ہیں اور بذریعہ ضحاک متواضع یعنی منکسر المزاج بھی منقول ہیں۔مُخبت إِخْبَات سے اسم فاعل ہے جو خَبَتْ سے مشتق ہے، اس کے معنی ہیں ہموار زمین۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۷) سیاق آیت سے بھی یہی معنی واضح ہیں۔فرماتا ہے: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمُ اللَّهُ وَاحِدٌ فَلَةَ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ) (الحج: ۳۵) یعنی اور ہر قوم کے لئے ہم نے قربانی کا ایک طریق مقرر کیا ہے تا وہ اُن چارپایوں پر جو اللہ نے ان کو بخشے ہیں اللہ کا نام لیں۔سو تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔اسی کے کلیۂ فرمانبردار ہو جاؤ اور عجز و انکسار کرنے والوں کو بشارت دے اور اسی سورۃ میں فرماتا ہے : وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتَخْبتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ اللهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (الحج: ۵۵) یعنی تا کہ وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے انہیں معلوم ہو کہ یہی (قرآن) تیرے رب سے کامل سچائی ہے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے لئے عاجزی سے جھک جائیں اور یقیناً اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ضرور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائے گا۔إذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطن في أمنِيَّتِهِ : اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں اپنی بات ملا دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو مضبوط کر دیتا ہے۔تمكِّى بمعنی حَدَّثَ ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ التِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ) ( الحج : ۵۳) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول بھیجانہ نبی مگر جب بھی اس نے کسی بات کا ارادہ کیا تو ضرور شیطان نے اس کی خواہش کے رستہ میں مشکلات ڈال دیں۔پھر جو شیطان ڈالتا ہے اللہ اسے مٹادیتا ہے اور اللہ اپنی آیات کو مضبوط کر دیتا ہے۔اللہ بہت ہی بڑے علم والا اور بہت ہی پختہ کار ہے۔اور امنیتہ کے معنی قراءت بھی کئے گئے ہیں، یعنی تلاوت اور امانتی کے معنی ہیں وہ باتیں جو پڑھی جائیں۔لا يَعْلَمُونَ الْكِتَبَ إِلَّا امَانِ (البقرة: 9) کے معنی ہیں يَقْرَءُوْنَ وَلَا يَكْتُبُونَ کہ وہ منہ سے کچھ پڑھتے ہیں مگر لکھتے نہیں۔یہ قول فراء ادیب نحوی کا ہے۔مشرک لوگوں کے کا ہن اور پنڈت وغیرہ نے ادھر اُدھر سے باتیں سن سنا کر کچھ منتر جنتر بنارکھے ہیں جنہیں انہوں نے رٹا ہوا ہے اور انہیں وہ اس طرح پڑھتے ہیں جیسے کتاب اللہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔سمعی کے معنی قراءت کے لیے ہیں۔فراء ادیب نے اس تعلق میں ایک شعر کا حوالہ دیا ہے جو یہ ہے: تَمَنَّى كِتَابَ اللهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ تَمَنِّي دَاوُدَ الزَّبُورَ عَلَى رِسْلِ یعنی اس نے رات کے پہلے حصے میں کتاب اللہ کی تلاوت کی جیسے داؤد زبور کی تلاوت آہستہ آہستہ کیا کرتے تھے اور فراء نے سمعی کے معنی نفس کی آرزو بھی کئے ہیں۔امام بخاری کو لفظ امنیتہ کی یہ شرح بیان کرنے کی ضرورت