صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 50
صحيح البخاری جلد ٢٢ - سورة الحج ۶۵ - كتاب التفسير / الحج وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ الْمُخْبِتِينَ (الحج: ٣٥) اور (سفیان بن عیینہ نے کہا: الْمُخْبِتِينَ کے الْمُطْمَئِنِينَ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي إِذَا معنی ہیں تسلی یافتہ۔اور حضرت ابن عباس نے اذا تَمَثَى الْقَى الشَّيْطنُ في أَمْنِيَّتِهِ (الحج: ٥٣) تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ کے متعلق کہا: إِذَا حَدَّثَ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي حَدِيثِهِ جب بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں اپنی فَيُبْطِلُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ وَيُحْكِمُ بات ڈال دیتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ شیطان کی ڈالی ہوئی آيَاتِهِ وَيُقَالُ أَمْنِيَّتِهِ (الحج: ٥٣) قِرَاءَتُهُ بات باطل کر دیتا ہے اور اپنی آیات کو مضبوط کر إلا أماني (البقرة: ٧٩) يَقْرَءُونَ وَلَا دیتا ہے۔اور امنیت؟ کے معنی اس کی قراءت بھی کئے گئے ہیں۔آیت الا امانی کے یہ معنی ہیں کہ وہ پڑھتے ہیں اور لکھتے نہیں۔اور مجاہد نے کہا: مشید کے معنی ہیں چونے اور سیمنٹ سے مضبوط کی ہوئی۔يَكْتُبُونَ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَشِيدٍ (الحج: ٤٦) بِالْقَصَّةِ، حِصّ۔وَقَالَ غَيْرُهُ يَسْطُونَ (الحج: ٧٣) يَفْرُطُونَ مِنَ اور مجاہد کے علاوہ نے يسطون کے معنی ”وہ حد السَّطْوَةِ وَيُقَالُ يَسْطُونَ يَبْطِشُونَ۔سے بڑھتے ہیں“ بتائے ہیں۔یہ لفظ سطوة سے ہے وَهُدُوا إلى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ (الحج: ٢٥) اور يَسْطُونَ کے معنی يَبْطِشُونَ (بھی) بتائے گئے أُلْهِمُوا إِلَى الْقُرْآنِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ ہیں (یعنی پکڑتے ہیں، لپکتے ہیں۔) آیت وَهُدُوا الْحَمِيدِ (الحج: ٢٥) الْإِسْلَامِ۔وَقَالَ ابْنُ إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ سے مراد یہ ہے کہ قرآن عَبَّاسٍ بِسَبَبِ (الحج: ١٦) بِحَبْلٍ إِلَى کی طرف بذریعہ الہام اُن کی راہنمائی کی گئی۔سَقْفِ الْبَيْتِ ثَانِيَ عِطْفِهِ (الحج: ١٠) وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ کا مفہوم یہ ہے کہ مُسْتَكْبِرٌ۔تَذْهَلُ (الحج:٣) تُشْغَلُ۔اسلام کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی اور حضرت ابن عباس نے کہا: بسبب کے معنی ہیں کہ رسی کا پھندا ڈال کر اپنے گھر کی چھت سے لٹک جائے۔ثانِي عِطْفِہ کے معنی ہیں تکبر سے کام لینے والا۔تَذْهَلُ کے معنی ہیں مشغول ہو جاتی ہے۔