صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 49 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 49

صحيح البخاری جلد ۶۵ کتاب التفسير الأنبياء كما بدأنا أَوّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا: جو روایت مذکورہ بالا آیت کے تحت نقل کی گئی ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک اس وعدے کا تعلق روز قیامت سے ہے۔لیکن روایت کے آخری حصے سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے مر تدلوگوں کی سزا کا نظارہ بذریعہ مکاشفہ یار و یا اسی دنیا میں دکھایا گیا تھا کہ آپ ان کے لئے سفارش کریں گے اور جواب میں آپ سے کہا جائے گا یہ بظاہر تو کلمہ گو مسلمان تھے مگر در حقیقت اسلام سے روگردان، اور میں یہ سن کر حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح عرض کروں گا کہ جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان کا نگران حال تھا لیکن جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگران تھا۔یہ امر کہ آپ کو یہ آئندہ کا نظارہ اسی دنیا میں دکھایا گیا تھا اس سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے اس مشاہدہ کی بنا پر صحابہ کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں۔مذکورہ بالا روایت میں سورہ مائدہ کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِهَ أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّ وَ رَبِّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِنْ تعد بهُمُ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( المائدة : ۱۱۹،۱۱۸) یعنی میں نے ان سے صرف وہی بات کہی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اللہ کی عبادت کرو۔جو میرا ( بھی ) رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا میں اُن کا نگران رہا۔مگر جب تو نے میری روح قبض کرلی تو توہی اُن پر مگر ان تھا میں نہ تھا)، اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔اس حصہ آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے متبعین کو توحید ہی کا سبق دیا تھا اور وہ ان کی زندگی میں اس پر عمل پیرا رہے لیکن ان کی وفات کے بعد وہ بگڑ گئے اور دین حق کو چھوڑ دیا۔سورۃ الانبیاء سے اس روایت (نمبر ۴۷۴۰) کا تعلق ظاہر ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انذار بھی واضح ہے۔لیکن جس آیت سے اس باب کا عنوان قائم کیا گیا ہے اس کے سیاق و سباق کا تعلق زبور والی پیشگوئی سے ہے۔جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کے غلبہ سے ہے جو انہیں اس زمین پر حاصل ہو گا اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہان کی قوموں کے لئے رحمت ثابت ہوں گے اور یہ بات کب پوری ہوگی؟ وَ اِنْ اَدْرِی اَقَرِيبٌ اَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ (الأنبياء : ١١٠) الله ہی کو علم ہے کہ یہ قریب ہے یا دور دراز زمانے کے بعد۔یہ الفاظ آیات کے سیاق و مقصود کو واضح طور پر معین کرتے ہیں کہ ان میں غلبہ اسلام سے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع: اور میں نہیں جانتا کہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو وہ قریب ہے یا دور۔