صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 48 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 48

صحيح البخاری جلد ۴۸ ۶۵ - کتاب التفسير / الأنبياء حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے جو شخع قبیلے کے بوڑھے آدمی تھے، مغیرہ نے شَيْخٌ مِنَ النَّخَعِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سعيد بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: نبی کریم صلی ا یم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: فَقَالَ إِنَّكُمْ مَّحْشُورُونَ إِلَى اللهِ اللہ کے سامنے تمہیں اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَ أَنَا أَوَّلَ خَلْقٍ ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ ہوگے۔اسی طرح نُعِيدُه وَعْدًا عَلَيْنَا ۖ إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ جس طرح کہ ہم نے پہلی پیدائش شروع کی تھی (الانبياء : ١٠٥) ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى ہم تمہیں دوبارہ پیدا کریں گے۔یہ وعدہ ہم نے يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ يُجَاءُ بِرِجَالِ اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ہم ضرور ایسا ہی کرنے مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ والے ہیں۔پھر جو شخص قیامت کے روز پہلے پہل فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ لَا پہنایا جائے گا ابراہیم ہوں گے۔دیکھو سنو میری تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ۔فَأَقُولُ كَمَا اُمت میں سے بعض لوگ حاضر کئے جائیں گے۔پھر انہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جائیں گے۔میں عرض کروں گا: اے میرے رب ! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔کہا جائے گا: تم نہیں جانتے انہوں نے تمہارے بعد کیا نئی نئی باتیں کیں تو میں اسی قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمُ شَهِيدًا مَّا دُمُتُ فِيهِمْ إِلَى قَوْلِهِ شَهِيدٌ (المائدة : ١١٨) فَيُقَالُ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے نے کہا فَارَقْتَهُمْ۔تھا: وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔۔۔یعنی اور جب تک میں اُن میں (موجود) رہا میں اُن کا نگران رہا مگر جب تو نے میری روح قبض کر لی تو تو ہی ان پر نگران تھا ( میں نہ تھا) اور تو ہر چیز پر نگران ہے۔تب کہا جائے گا کہ یہ لوگ جب سے تم ان سے جدا ہوئے ہو اپنی ایڑیوں کے بل ہی پھرے رہے۔أطرافه : ٣٣٤٩ ، ٣٤٤٧ ٤٦٢٥ ٤٦٢٦، ٦٥٢٤، ٦٥٢٥، ٦٥٢٦-