صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 47 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 47

صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير / الأنبياء نے اس حصہ کو اہمیت دی ہے تا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان کا علم ہو۔مذکورہ بالا آیت سے پہلے فرماتا ہے: وَلَقَدْ أَتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَلِمِينَ (الانبیاء : ۵۲) یعنی اور یقینا ہم نے ابراہیم کو عقل کی پختگی اور صلاحیت و قابلیت پہلے سے عطا کی تھی اور ہم ہی اس سے خوب واقف تھے۔بت پرستوں کی شدت مخالفت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آبائی مذہب سے ارتداد کی سزا سے بچانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْنَا ينارُ كونِي بَرْداً وَ سَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْأَخْسَرِينَ) (الانبیاء: ۷۰، ۷۱) یعنی ہم نے کہا اے آگ ! ابراہیم کے لئے ٹھنڈی ہو جا اور اس کے لئے سلامتی کا باعث بن جا اور انہوں نے اس کے متعلق ہر تدبیر کی مگر ہم نے انہیں بری طرح سے ناکام کر دیا۔اس تعلق میں کتاب احادیث الانبیاء تشریح باب ۱۰ بھی دیکھئے۔السجل کے معنی ہیں الصَّحِيفَةُ یعنی ورق۔یہ معنی طبری نے بسند علی بن ابی طلحہ حضرت ابنِ عباس سے نقل کیے ہیں۔كَفَى السّجلّ کے معنی ہیں عَلَى مَا فِيْهِ مِنَ الْكِتَابِ یعنی جیسے کاغذ مع ان الفاظ کے جو اس میں لکھے ہوتے ہیں لپیٹ دیا جاتا ہے اسی طرح زمین و آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے۔یہ مفہوم علامہ طبری نے بیان کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه (۵۵۶) اسی تعلق میں اَلْفَزَعُ الْاَكْبَرُ کے معنی بہت بڑی گھبراہٹ کئے گئے ہیں۔فرماتا ہے: يوم نطوى السَّمَاء كَطَى السّجل للكتب ، كَمَا بَدَ أَنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ - وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ ، وَلَقَدْ كَتَبَنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِى الظَّلِحُونَ ( الانبیاء: ۱۰۶،۱۰۵) یعنی جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح بہیاں تحریر کو لپیٹ لیتی ہیں۔جس طرح ہم نے تمہاری پیدائش کو پہلی بار شروع کیا تھا اسی طرح پھر اس کو دہرائیں گے ( یعنی تباہی کے ساتھ نئی قومیں جنم لیں گی اور زندہ ہوں گی ) یہ وعدہ ہم نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے اور ہم نے ایسے کرنا ہی تھا ( تا صفت ربوبیت کا تقاضا پورا ہو)۔یقیناً ہم نے زبور میں نصیحت و ہند کے بعد یہ لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔طَوَى السَّمَاءِ اور طَيُّ السِّجِلِ سے ایک عظیم انقلاب بپا ہونے کی طرف اشارہ ہے جس سے یا جو جی قوموں کا ساختہ پر داختہ حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے گا اور اسلام کی برکت سے نیا نظام قائم ہونے والا ہے۔باب ۲ : كَمَا بَدَ أَنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا (الانبياء : ١٠٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اسی طرح جس طرح کہ ہم نے پہلی پیدائش شروع کی تھی ہم تمہیں دوبارہ پیدا کریں گے۔یہ وعدہ ہم نے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔٤٧٤٠ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۴۷۴۰: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ اس باب کا نمبر ۲ فتح الباری مطبوعہ سلفیہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۵۵۶) لیکن کسی نسخہ میں بھی اس سے قبل باب نمبر “ مذکور نہیں ہے۔