صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 46
صحيح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير الأنبياء اشْتَهَتُ أَنْفُسُهُمْ خَلِدُونَ ( الانبياء : ۱۰۲، ۱۰۳) یقینا وہ لوگ جن کی نسبت اعلیٰ درجہ کے نیک سلوک کا وعدہ ہماری طرف سے ہو چکا ہے وہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے وہ اس کی آہٹ تک نہیں سنیں گے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ جیسے ان کے دل چاہتے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔اس آیت کے بعد الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ کا ذکر فرماتا ہے جو اسی سطح زمین پر قائم ہونے والی ہے۔جس کے بعد بمطابق پیشگوئی اللہ کے بندے اس زمین کے وارث ہوں گے۔پورا سیاق کلام یہ ہے: لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَ تَتَلَقَّهُمُ الْمَلَبِكَةُ هَذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (الانبیاء : ۱۰۴) اس آیت کی شرح بعد میں اپنے موقع پر آئے گی۔اذنك کے معنی ہیں ہم نے تجھے علم دے دیا۔اذنتکم سے مراد ہے میں نے تجھے مطلع کر دیا ہے۔بلحاظ علم میں اور تو برابر ہیں۔اذنك کے معنی ہیں تجھے آگاہ کر دیا ہے تا دھوکے میں نہ رہے۔یہ قول ابو عبیدہ کا ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۵) اذنتک ایسے موقع پر کہا جاتا ہے جب دشمن کو آگاہ کرنا مقصود ہو تا وہ کسی قسم کی غلط فہمی میں نہ رہے۔سورۃ ابراہیم کی آیت وَاذْ تَاذَنَ رَبُّكُمْ (ابراهیم : ۸) کی تفسیر میں لفظ تاذن کا اشتقاق بیان کیا جا چکا ہے۔لَعَلَّكُمْ تُسْتَلُونَ کے معنی ہیں تا کہ تم سمجھو۔تُستَلُونَ کے معنی تُفْهَمُونَ اور تُفْقَهُونَ اوپرے ہیں۔اوّل الذکر معنی فریابی نے اور ثانی الذکر معنی ابن منذر نے مجاہد سے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۵) غالباً یہ من مفہوم سیاق آیت سے اخذ کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: لَا تَرْكُضُوا وَ ارْجِعُوا إِلى مَا أَتْرِفْتُم فِيهِ وَمَسْكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْتَلُونَ (الانبیاء: ۱۴) یعنی دوڑو نہیں اور ان نعمتوں کی طرف جن کے ذریعے تم آرام کی زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف واپس جاؤ تا کہ تم اپنے اعمال کی نسبت پوچھے جاؤ۔مؤاخذہ اور گرفت پر ہی انسان کو سمجھ آتی ہے کہ وہ غلط کار تھا۔غلط کاری کا انجام بد ہوتا ہے۔ارتضی بمعنی رَضِيَ ہے یعنی پسند کیا۔فرماتا ہے: يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارتضى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (الانبیاء : ۲۹) یعنی وہ جانتا ہے جو انہیں آئندہ پیش آنے والا ہے اور جو اُن کے پیچھے ہو چکا ہے اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اسی کے لئے جسے اس نے پسند کر لیا ہے اور ان ( معبودوں یعنی مسیح وغیرہ) کا اپنا یہ حال ہے کہ وہ اس (اللہ تعالیٰ) کی خشیت سے خوف زدہ ہیں۔ارتضی کے یہ معنی فریابی ہی نے مجاہد سے نقل کئے ہیں اور اسی طرح التمايل بمعنی اصنام بھی ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۶،۵۵۵) تمثال کے معنی ہیں مجسمہ ، بت۔اس کی جمع تماثیل ہے۔فرماتا ہے: اِذْ قَالَ لِآبَيْهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَكِفُونَ (الانبیاء : ۵۳) جب اس (ابراہیم) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیا مجسمے ہیں جن کے آگے تم بیٹھے رہتے ہو۔عہد قدیم کی کتاب پیدائش میں کسدیوں کے شہر اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش و پرورش اور قوم کی مخالفت کی وجہ سے وہاں سے ہجرت وغیرہ کرنے کا ذکر موجود ہے۔(پیدائش ۱۱: ۳۱) لیکن اگر ذکر نہیں تو حضرت ابراہیم کی صنم پرستی کے خلاف اور توحید کے حق میں ذکر بلند کرنے اور قوم کی مخالفت وغیرہ کا۔قرآن مجید