صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 45 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 45

صحیح البخاری جلدا لدو ۶۵ - کتاب التفسير الأنبياء ہوں گے (یعنی بر باد بے رونق۔) اس آیت سے قبل فرماتا ہے : وَكَمْ قَصَبْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَ أَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا أَخَرِينَ (الانبياء : (۱۲) اور کتنی ہی بستیاں جو ظالم تھیں ہم نے کاٹ کر رکھ دیں اور ان کے بعد دوسری قوموں کو اٹھایا۔ لَا يَسْتَحْسِرُونَ سے یہ آیت مراد ہے : وَلَهُ مَنْ فِي السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِنْدَةً لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ ) يُسَبِّحُونَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ (الانبياء : ۲۰، ۲۱) اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کے ہیں اور جو اس کے حضور ہیں وہ اس کی عبادت سے سرتابی نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں۔ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ رکتے نہیں۔ عمیق کے لفظی معنی ہیں گہرے۔ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ : گہرے ( دور دراز کے ) راستے۔ اس سے یہ آیت مراد ہے : وَاذْنُ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَ عَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (الحج: ۲۸) اور تمام لوگوں میں اعلان کر دے وہ حج کی نیت سے تیرے پاس آیا کریں۔ پیدل بھی اور ایسی سواریوں پر جو دور دراز گہرے راستوں سے سفر کرتے ہوئے آئیں۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ کتابت کی غلطی سے یہ آیت سورۃ الانبیاء کی تفسیر میں لکھی گئی ہے یا لفظ فجاجا (الانبیاء (۳۲) کے تعلق میں ضمنا فج عمیق کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۵) نکسوا کے معنی ہیں لوٹائے گئے۔ ابو عبیدہ نے آیت ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمُ کے معنی قُلبُوا یعنی الٹائے گئے گئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۵) یہ فقرہ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ اپنے سروں کے بل الٹائے گئے سے مراد یہ ہے کہ سر نیچے ڈال کر سوچ و بچار کرنے لگے اور انہیں اصل حقیقت معلوم ہوگئی۔ فرماتا ہے : فَرجَعُوا الی انْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظَّلِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ ) (الانبیاء : ۶۵ ، ۶۶) اس پر انہوں نے اپنے نفسوں کی طرف رجوع کیا اور کہا کہ اصل میں تم ہی ظالم ہو اور اپنے سر نیچے ڈال دیئے (لا جواب ہو گئے اور کہنے لگے ) تجھے یقیناً علم ہی ہے کہ یہ (بت) نہیں بولتے۔ (ہمیں ان سے پوچھنے کے لئے کیوں کہتے ہو)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مشرکین پر حجت قائم کرنے کی غرض سے ہی ان سے کہا کہ اگر وہ بول سکتے ہوں تو ان سے پوچھ لو۔ لفظ نگس کے استعمال میں کہتے ہیں نَكَسْتَهُ عَلَى رَأْسِهِ إِذَا قَهَرْتَهُ: جب تو اپنے مد مقابل کو مغلوب کرلے تو کہتے ہیں اُسے سر کے بل گرا دیا۔ فراء ادیب کے نزدیک نکسوا کے معنی ہیں رَجَعُوا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دلیل میں مغلوب ہو گئے۔ طبری نے اس معنی پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے پہلے کسی شے کا ذکر نہیں جس کی طرف ان کا رجوع مقصود ہو۔ لیکن ایجاز بلیغ میں کئی الفاظ مقدر اور محذوف ہوتے ہیں اور یہ اعتراض نا قابل التفات ہے۔ نکسوا جمہور کی قراءت ہے۔ ابن ابی عبلة کی قراءت نكَسُوا ہے اس میں أَنْفُسَهُمْ مقدر ہے۔ یعنی نَكَسُوْا أَنْفُسَهُمْ عَلَى رُءُوسِهم - ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۵) الحسيسُ الحِسُّ الجَرْسُ اور الهَمْسُ بلحاظ معنی ایک ہی ہیں، یعنی دھیمی آواز، آہٹ۔ سورۃ الانبیاء میں فرماتا ہے : إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيْسَهَا ۚ وَهُمْ فِي مَا