صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 44
صحيح البخاری جلد سلام سلام ۲۵ کتاب التفسير الأنبياء کے آخری غلبہ سے ہے۔جب ساری دنیا کی قومیں توحید کو لا محالہ قبول کریں گی ( دیکھئے زبور، باب ۹۸۶) زبور کی تمام دعاؤں کا مرکزی نقطہ یہی آخری غلبہ ہے۔وَلَقَدْ كَتَبَنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِكرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصلِحُونَ (الأنبياء:۱۰۶) یعنی اور ہم نے زبور میں کچھ نصیحتیں کرنے کے بعد یہ لکھ چھوڑا ہے کہ ارض (مقدس) کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔يُصْحَبُون : اس لفظ سے مراد یہ آیت ہے: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمنَعُهُمُ مِنْ دُونِنَا لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمُ وَلَا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ (الانبیاء : ۴۴) کیا ان کے لئے ایسے معبود ہیں جو انہیں ہماری سزا سے بچالیں گے وہ (معبود) تو اپنی جانوں کی بھی حفاظت نہیں کر سکتے اور نہ ہمارے مقابل میں ان کا کوئی ساتھ دے سکتا ہے۔یعنی نہ کسی حملے سے یا دُکھ سکھ سے بچاسکتے ہیں یا ان کے لئے مفید صورت میں کارآمد ہو سکتے ہیں۔مِّن دُونِنا کے معنی ہیں جب تک ہماری مرضی نہ ہو کوئی شخص کسی کے کام نہیں آسکتا۔أمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً : أمة سے مراد ہے مذہب اور دین۔طبری اور ابن منذر نے یہ معنی نقل کیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۴) پوری آیات یہ ہیں: ان هذة امتكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ كُلُّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ (الانبیاء : ۹۳، ۹۴) تمہاری اُمت (یعنی تمہارے ابدی دشمن ) ایک ہی راہ پر چلنے والے ہیں اور میں تمہارا رب ہوں سو میری ہی عبادت کرو اور انہوں (مخالفین انبیاء) نے شریعت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔اپنے آپ کو فرقوں میں بانٹ دیا۔وہ تمام ہماری طرف ہی لوٹنے والے ہیں۔حَصَبُ جَهَنَّمَ کے معنی ہیں جہنم کا ایندھن۔فراء ادیب نے حضرت علی و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کی قراءت بجائے حَصَبُ ، حَطَبُ نقل کی ہے۔یعنی جلانے کی خشک لکڑی اور حضرت ابن عباس سے اس کی قراءت حَضَبُ منقول ہے : هُوَ مَا هَيَّجَتْ بِهِ النَّار جس سے آگ بھڑکائی جائے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۴) غرض اختلاف قراءت کے پیش نظر مذکورہ بالا حوالہ نقل کیا گیا ہے۔حصب جمہور کی قراءت ہے۔وَقَالَ غَيْرُهُ اَحَضُّوا - تَوَقَّعُوْا: اور اُن کے سوا اوروں نے کہا اَحَشُوا کے معنی ہیں انہوں نے توقع رکھی۔آوروں سے مراد ابو عبیدہ معمر بن مثنی لغوی ہیں۔امام بخاری نے جن کا حوالہ بکثرت دیا ہے۔کبھی ان کا نام کھلے طور پر لیا ہے اور کبھی مہم رکھا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۴) پوری آیت یہ ہے: فَلَمَّا أَحَشُوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ (الانبياء: ۱۳) یعنی جب ( ظالموں) نے ہمارے عذاب کو محسوس کیا تو اس سے بچنے کے لئے دوڑنے لگے اور مومنوں کے متعلق فرماتا ہے: لا کیسعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَلِدُونَ (الانبياء: ۱۰۳) اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور اس حالت میں جسے ان کے جی چاہتے ہیں ہمیشہ رہیں گے۔حمدِین کے معنی ہیں مجھے ہوئے۔فرماتا ہے : قَالُوا يُوَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظلِمِينَ ، فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْونُهُم حَتَّى جَعَلْتُهُمْ حَمِيدٌ حَدِينَ (الانبیاء ۱۶،۱۵) اُنہوں نے کہا: ہائے افسوس ہم ہی ظالم ہیں۔وہ یہی بات پکار کر کہتے رہیں گے یہاں تک کہ ہم انہیں ایک جڑ سے کٹے ہوئے کھیت کی طرح کر دیں گے۔بجھی ہوئی راکھ کی مانند