صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 43
صحيح البخاری جلد ۶۵- کتاب التفسير / الأنبياء وہ دونوں ایک کھیتی کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس وقت کہ جب قوم کی بھیٹرمیں رات کو کھیتی چر گئیں اور ہم ان کے فیصلے کے گواہ تھے۔ہمسایہ قوم نے ڈاکہ زنی کی تھی اور ملک کو نقصان پہنچایا تھا۔جس کا ذکر عہد قدیم کی کتابوں میں موجود ہے۔غَنمُ الْقَوْمِ سے مراد رعایا ہے کہ ان کا خیال ایسے رکھا جاتا ہے جیسے چرواہا اپنے ریوڑ کا۔امام ابن حجر نے لکھا ہے کہ جب کھیتی رات کو چر جائیں تو کہتے ہیں نَفشَتْ، اگر دن کو چہ جائیں تو لفظ هَمَلَتْ استعمال ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۴) آیت إِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ کے تعلق میں یہ بتانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام اوائل عمر میں گلہ بان تھے (۱۔سموئیل، باب ۱۱:۱۶ تا ۱۳) اور گلہ بانی کا لفظ بمعنی رعیت پروری عہد قدیم کی کتاب تواریخ اول میں جگہ جگہ آیا ہے (۱۔تواریخ، باب ۱۷:۲۱) اور عہد قدیم میں فلستیوں، موآبیوں، مدیانیوں اور عمالیقیوں وغیرہ ہمسایہ مشرک قبائل فلسطین کے یروشلم پر حملہ آور ہونے اور اسے تاخت و تاراج کرنے کا بھی ذکر ہے۔(قضاۃ باب ۱۳:۳، ۱۴) ( قضاة باب ۳:۴) ( قضاة باب ۶: ۱ تا ۶ ) ( قضاۃ باب ۱:۱۳) (۱- سموئیل باب ۹:۱۲) (۱- سموئیل باب ۱:۳۰) اللہ تعالیٰ نے انہیں ان قبائل پر فتح دی اور تابوت جو اُن سے چھن گیا تھا بیت المقدس میں دوبارہ بحال ہوا۔(۱- سموئیل باب (۶) تواریخ دوم باب اول میں سلیمان بن داؤد علیہما السلام کی تخت نشینی اور انہیں حکمت و معرفت سے مخصوص کئے جانے کا ذکر ہے اور اسی کتاب میں مذکور ہے کہ جو وعدہ الہی حضرت داؤد علیہ السلام سے ہوا تھا اس کی تکمیل ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی اور ان کی سلطنت وسیع اور مستحکم ہوئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذریعے سے تابوت (عہد کا صندوق) خداوند کے گھر میں دوبارہ لایا اور نذرانہ شکر گزارا گیا۔(۲- تواریخ باب ۵: ۱ تا۸) حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے ذکر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی حکومت بھی اسی طرح بحال ہو گی اور یہ وعدہ الہی اس وقت پورا ہو گا جب یا جوج ماجوج کا فتنہ زور پکڑے گا اور دنیا کو ان کے فتنے سے الْفَزَعُ الأكبر ( بہت بڑی گھبراہٹ و پریشانی ) کی گھڑی کا سامنا ہو گا۔اس وقت ایک بہت بڑا انقلاب واقع ہو گا۔نیا آسمان ہو گا اور نئی زمین۔اس وقت زبور کی یہ پیشگوئی پوری ہو گی کہ زمین کے وارث نیک لوگ ہی ہوں گے۔(زبور باب ۱۳:۲۵) (زبور باب ۹:۳۷) آيات وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ۔۔۔وَإِنْ أَدْرِى أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدُ مَا تُوعَدُونَ (الأنبياء :۱۱۰۳۱۰۸) سے ظاہر ہے کہ سورۃ الانبیاء کی مذکورہ بالا پیشگوئی کا تعلق دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات اور اسلام ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت کے طور پر۔تو کہہ دے کہ یقینا میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پس کیا تم فرمانبردار بنو گے ؟ پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے کہ میں نے تم سب کو برابر اطلاع کر دی ہے اور میں نہیں جانتا کہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو وہ قریب ہے یا دور۔