صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 42
صحیح البخاری جلد م ۶۵ - کتاب التفسير / الأنبياء بات کی تائید ہوتی ہے کہ بلحاظ مضمون ان سورتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ گذشتہ واقعات کے پیرا یہ میں یہ سورتیں آئندہ کے واقعات کے متعلق اہم خبروں پر مشتمل ہیں، جن کا تعلق خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہے اور اکثر کا تعلق ما بعد کے زمانہ سے جو در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کا ہی تسلسل ہے۔ امام بخاری نے سورۃ الانبیاء کو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت سے شروع کیا اور بتایا ہے کہ یہ سورۃ بھی سابقہ سورتوں کے سیاق ہی میں نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ اس سورۃ میں فتنہ یا جوج ماجوج کا ذکر ہے۔ یہ قومیں بھی عیسائی ہیں اور فتنہ دجال کا تعلق اقوام یا جوج و ماجوج سے ہی ہے۔ اوپر جن مفرد الفاظ کا حل نقل کیا گیا ہے ان کی شرح درج ذیل ہے۔ جُلدًا - قَطَّعَهُنَّ: انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ طبری نے بسند سعید ، قتادہ سے آیت آیت فَجَعَلَهُمْ جُدا کے یہی معنی نقل کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۳) پوری آیت یہ ہے : فَجَعَلَهُمْ جُزْدًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ (الانبیاء : ۵۹) پھر اس نے ان (یعنی بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ مگر ایک بڑا بت اُن کے لئے رہنے دیا تا کہ وہ اس کے پاس پھر آئیں (اور غور کریں)۔ آیات گذشتہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے بتوں سے متعلق ایک ایسی تدبیر کروں گا جس سے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ اس آیت کے بعد کی آیات میں اس تدبیر کا ذکر ہے۔ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ ستارے اپنے اپنے دائرہ میں محور پر یوں گردش کر رہے ہیں جیسے چرخا اپنے محور پر چکر کھاتا ہے۔ فرماتا ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الانبياء: ۳۴) اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند پیدا کیا ہے۔ یہ تمام کو اکب) اپنے اپنے محور میں بے روک تیزی سے چل رہے ہیں۔ مذکورہ بالا مفہوم سفیان بن عیینہ نے بحوالہ عمر و نقل کیا ہے يَسْبَحُونَ کے معنی يَدُورُونَ حضرت ابنِ عباس سے ابن منذر نے بسند علی بن ابی طلحہ بتائے ہیں۔ اور فعل مضارع جمع مذکر سالم اس لئے ہے کہ ان کی حرکت عاقلوں کی سی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۳، ۵۵۴) (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۶۳) اور بسند مجاہد لفظ يَسْبَحُونَ کا مفہوم یہ بتایا گیا ہے کہ جیسے چکی اپنی میخ کے ارد گرد گردش کرتی ہے۔ اسی طرح نظام شمسی وغیرہ کو اکب سماویہ کا حال ہے۔ اس تعلق میں فراء ادیب نے بتایا ہے کہ يَسْبَحُونَ کا صیغہ جمع مذکر سالم ہے ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۴) بحالیکہ کائنات سماویہ کا ذکر ہے جو صیغہ مؤنث تَسْبَحُ چاہتا ہے۔ یہ امر قابل اعتراض نہیں ۔ عربی زبان میں بہت وسعت ہے اور اس مشہور ادیب نے اس سوال کے تعلق میں سورۃ یوسف کی آیت وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَجِدِينَ ) (یوسف: ۵) کا حوالہ دیا ہے۔ یعنی سورج اور چاند دونوں کو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ رَأَيْتُهُمَا کی جگہ ایتھم ہے جو صیغہ غائب جمع مذکر ہے۔ نقشت : رات کو چر گئیں۔ اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے: وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ إِذْ يَحْكُمُنِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُلِّيهِمْ شُهِدِينَ (الانبیاء : ۷۹) اور داؤد اور سلیمان (کا ذکر بھی کر) جب