صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 41 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 41

صحيح البخاری جلد اسم ۶۵ - کتاب التفسير / الأنبياء الْوَاحِدِ وَالِاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ لَا خُدِین کے معنی ہیں بجھے ہوئے۔حَصِیدٌ کے يَسْتَخْسِرُونَ (الانبياء : (۲۰) لَا يُعْبُونَ معنی ہیں جڑ سے اُکھڑا ہوا۔یہ لفظ مفرد تثنیہ اور بَعِيـ سے وَمِنْهُ حَسِيرٌ (الملك : (٥) وَحَسَرْتُ جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔لَا يَسْتَخْسِرُونَ بعيري۔عميق (الحج: ۲۸) بعيد مراد ہے وہ تھکتے نہیں اور اسی سے لفظ حسیں ہے نُكِسُوا (الانبياء : ٦٦) رُدُّوا۔صَنْعَةَ لبوس تھکا ماندہ) اور ( کہتے ہیں:) حَسَرْتُ بَعِيري (الانبياء:۸۱) الدُّرُوعُ تَقَطَّعُوا أَمْرَهُم (میں نے اپنے اونٹ کو تھکا دیا۔) عمیق بمعنی (الانبياء : ٩٤) اخْتَلَفُوا الْحَسِيسُ دُور دراز۔نکسوا کے معنی ہیں الٹا دیئے گئے۔وَالْحِسُ وَالْجَرْسُ وَالْهَمْسُ وَاحِدٌ صَنْعَةَ بُوئیں کے معنی ہیں زرہیں بنانے کا وَهُوَ الصَّوْتُ الْخَفِيُّ اذَنَكَ من تَقْطَعُوا أَمْرَهُمْ یعنی اپنا الگ الگ راستہ ( حم السجدة : ٤٨) أَعْلَمْنَاكَ ، أَذَنْتُكُمُ اختیار کر لیا۔الْحَسِيس، الْحِنُ الْجَرْسُ اور (الانبياء : ١١٠) إِذَا أَعْلَمْتَهُ فَأَنْتَ الْهَمْسُ یہ سب الفاظ ایک ہی معنوں میں ہیں یعنی بہت دھیمی آواز ، آہٹ۔اذنك کے معنی ہیں ہم نے تجھے آگاہ کر دیا۔جب تم کسی کو آگاہ وَهُوَ عَلَى سَوَاءٍ لَمْ تَغْدِرْ۔وَقَالَ - مُجَاهِدٌ لَعَلَّكُم لَعَلَّكُمْ تُسْتَلُونَ (الانبياء : ١٤) کر دو تو عربی میں کہتے ہیں اذنتُكُم یعنی میں نے تُفْهَمُونَ۔ارتضى (الانبیاء : ۲۹) رَضِيَ۔تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔اس سے مراد یہ ہوتی ہے التَّمَاثِيلُ (الانبياء : ٥٣) الْأَصْنَامُ کہ آگاہی میں تم اور وہ برابر ہو۔تم نے دھو کہ السجل (الانبياء : ١٠٥) الصَّحِيفَةُ۔ریح: Zj نہیں دیا۔اور مجاہد نے کہا: لَعَلَّكُم تُستَلُونَ سے مراد ہے کہ شاید تمہیں سمجھ آجائے۔(تَلُونَ تُفْهَمُونَ کے معنوں میں ہے۔) ارتضی کے معنی ہیں پسند کیا۔التَّمَاثِيلُ کے معنی ہیں بت۔السجال کے معنی ہیں کاغذ روایت ۴۷۳۹ سے بتایا گیا ہے کہ پانچوں سورتیں (سورۃ بنی اسرائیل، الکہف، مریم، طلا اور الانبیاء) مکی زندگی کے ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں۔اس امر پر سب ثقہ راوی متفق ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۳) سورۃ بنی اسرائیل کی تفسیر میں محولہ بالا روایت گزر چکی ہے۔اس سے ہماری