صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 41
صحیح البخاری جلد ام ۶۵ - کتاب التفسير / الأنبياء الْوَاحِدِ وَالاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ لَا خَدِينَن کے معنی ہیں بجھے ہوئے۔ حَصِیدٌ کے يَسْتَحْسِرُونَ (الانبياء : ٢٠) لَا يُعْبُونَ معنی ہیں جڑ سے اُکھڑا ہوا۔ یہ لفظ مفرد تثنیہ اور وق وَمِنْهُ حَسِيرٌ (الملك : ٥) وَحَسَرْتُ جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ لَا يَسْتَحْسِرُونَ سے بعيري عميق (الحج: ۲۸) بَعِيد مراد ہے وہ تھکتے نہیں اور اسی سے لفظ حسیڈ ہے نكِسُوا ( الانبياء : رُدُّوا ٦٦) صَنْعَةَ ۔ لَبوس تھکا ماندہ) اور ( کہتے ہیں:) حَسَرْتُ بَعِيرِي (الانبياء: ٨١) الدُّرُوعُ تَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ (میں نے اپنے اونٹ کو تھکا دیا۔) عمیقی بمعنی (الانبياء : ٩٤) اخْتَلَفُوا الْحَسِيسُ دُور دراز۔ نکسوا کے معنی ہیں الٹا دیئے گئے۔ صَنْعَةَ لَبوس کے معنی ہیں زرہیں بنانے کا وَالْحِسُ وَالْجَرْسُ وَالْهَمْسُ وَاحِدٌ وَهُوَ الصَّوْتُ الْخَفِيُّ أَذَلكَ من تَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ یعنی اپنا الگ الگ راستہ ( حم السجدة: (٤٨) أَعْلَمْنَاكَ ، أَذَنْتُكُمُ اختیار کر لیا۔ الْحَسِيسِ الْحِسَ، الْجَرْسُ اور الانبياء: ١١٠) إِذَا أَعْلَمْتَهُ فَأَنْتَ الْهَمْسُ یہ سب الفاظ ایک ہی معنوں میں ہیں یعنی بہت دھیمی آواز، آہٹ۔ اذنك کے معنی وَهُوَ عَلَى سَوَاءٍ لَمْ تَغْدِرْ۔ وَقَالَ ہیں ہم نے تجھے آگاہ کر دیا۔ جب تم کسی کو آگاہ مُجَاهِدٌ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ ) تسئلون (الانبياء : ١٤) کر دو تو عربی میں کہتے ہیں اذنتُكُم یعنی میں نے تُفْهَمُونَ ارْتَضَى (الانبياء: ٢٩) رَضِيَ۔ تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہو سے ہوتی ہے التَّمَاثِيلُ (الانبیاء : ٥٣) الْأَصْنَامُ ۔ کہ آگاہی میں تم میں تم اور وہ برابر ہو۔ تم نے دھو کہ السجل الانبياء : ١٠٥) الصَّحِيفَةُ۔ تشریح: نہیں دیا۔ دیا۔ اور مجاہد نے کہا: لَعَلَّكُمْ تُسْلُونَ سے مراد ہے کہ شاید تمہیں سمجھ آجائے۔ (تُلُونَ تُفْهَمُونَ کے معنوں میں ہے۔) ارتضی کے معنی ہیں پسند کیا۔ التماثيل کے معنی ہیں بت۔ السجل کے معنی ہیں کاغذ ۔ روایت ۴۷۳۹ سے بتای سے بتایا گیا ہے کہ پانچوں سورتیں (سورۃ بنی اسرائیل، الکہف، مریم، طلا اور الأنبياء ) مکی زندگی کے ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں۔ اس امر پر سب ثقہ راوی متفق ہیں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۳) سورۃ بنی اسرائیل کی تفسیر میں محولہ بالا روایت گزر چکی ہے۔ اس سے ہماری