صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 40
صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير الأنبياء ٢١- سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ ٤٧٣٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۴۷۳۹ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: بْنَ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَنِي إِسْرَائِيلَ میں نے عبد الرحمن بن یزید سے سنا۔ وہ حضرت وَالْكَهْفُ وَمَرْيَمُ وَطَهُ وَالْأَنْبِيَاءُ هُنَّ عبد الله (بن مسعودؓ ) سے روایت کرتے تھے مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي۔ اُنہوں نے کہا: سورۃ بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہ اور انبیاء یہ پہلی عمدہ سورتوں میں سے ہیں اور اطرافه: ٤٧٠٨، ٤٩٩٤ - یہ میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔ وَقَالَ قَتَادَةُ جُزَاذًا (الانبياء : ٥٩) اور قتادہ نے کہا: جُدا کے معنی ہیں اس قَطَّعَهُنَّ وَقَالَ الْحَسَنُ فِي فَلَكٍ نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور حسن نے کہا: (الانبياء: ٣٤) مِثْلِ فَلْكَةِ الْمِغْزَلِ فِي فَلَكٍ کے معنی ہیں ہر ستارہ اپنے اپنے دائرہ يَسْبَحُونَ (الانبياء : ٣٤) يَدُورُونَ ۔ قَالَ میں اسی طرح گھوم رہا ہے جس طرح چرنے کی ابْنُ عَبَّاس نَفَشَتُ (الانبیاء : ۷۹) رَعَتْ پھر کی۔ يَسْبَحُونَ کے معنی چکر لگاتے ہیں۔ لَيْلًا يُصْحَبُونَ (الانبياء : ٤٤ ) يُمْنَعُونَ ۔ حضرت ابن عباس نے کہا: نقشت کے معنی ہیں رات کو چھر گئے۔ يُصْحَبُونَ کے معنی ہیں: بچا لئے أمَّتُكُمُ أُمَّةً وَاحِدَةً (الانبياء : ٩٣) قَالَ جائیں گے ۔ اُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً - ( حضرت ابن دِينَكُمْ دِينٌ وَاحِدٌ۔ وَقَالَ عِكْرِمَةُ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الانبياء : ۱۹) حَطَبُ بِالْحَبَشَةِ نے عباس نے کہا: تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور عکرمہ نے کہا: حَصَبُ جَهَنَّم : حبشی زبان میں وَقَالَ غَيْرُهُ أَحَشُوا (الانبیاء : ۱۳) تَوَقَّعُوا جلانے کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ ان کے ماسوا اوروں مِنْ أَحْسَسْتُ۔ خَدِينَ (الانبیاء : ١٦) نے کہا: أَحَشُوا یعنی انہیں اس کی توقع تھی۔ هَامِدِينَ ۔ حَصِيدٌ مُسْتَأْصَلٌ يَقَعُ عَلَى بِهِ أَحْسَسْتُ سے ہے (یعنی میں نے آہٹ پائی) ا عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ ”بِالْحَبَشِيَّةِ ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۱۹ صفحہ ۱۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔