صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 40
صحيح البخاری جلد ٢١- سُوْرَةُ الْأَنْبِيَاءِ -۲۵ کتاب التفسير الأنبياء ٤٧٣٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۷۳۹ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي سے بیان کیا، کہا: ) شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بْنَ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ بَنِي إِسْرَائِيلَ میں نے عبد الرحمن بن یزید سے سنا۔وہ حضرت وَالْكَهْفُ وَمَرْيَمُ وَلَهُ وَالْأَنْبِيَاءُ هُنَّ عبد الله (بن مسعودؓ ) سے روایت کرتے تھے الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي اُنہوں نے کہا: سورۃ بنی اسرائیل، کہف، مریم ، مِنَ طلہ اور انبیاء یہ پہلی عمدہ سورتوں میں سے ہیں اور یہ میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔اطرافه: ٤٧٠٨، ٤٩٩٤ - وَقَالَ قَتَادَةُ جُذَاذَا (الانبياء : ٥٩) اور قتادہ نے کہا: جذذا کے معنی ہیں اس قَطَّعَهُنَّ وَقَالَ الْحَسَنُ فِي فَلَكٍ نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور حسن نے کہا: (الانبياء: ٣٤) مِثْل فَلْكَةِ الْمِغْزَلِ فِي فَلَكٍ کے معنی ہیں ہر ستارہ اپنے اپنے دائرہ يَسْبَحُونَ (الانبياء : ٣٤) يَدُورُونَ۔قَالَ میں اس طرح گھوم رہا ہے جس طرح چرنے کی ابْنُ عَبَّاسٍ نَفَشَتُ (الانبیاء : ۷۹) رَعَتْ پھر کی۔يَسْبَحُوْنَ کے معنی چکر لگاتے ہیں۔لَيْلًا يُصْحَبُونَ (الانبياء : ٤٤) يُمْنَعُونَ حضرت ابن عباس نے کہا: نقشت کے معنی ہیں رات کو چھر گئے۔يُصْحَبُونَ کے معنی ہیں: بچالئے جائیں گے۔اُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً - (حضرت ابن عباس نے کہا: تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور جَهَنَّمَ (الانبياء: ٩٩) حَطَبْ بِالْحَبَشَةِ۔عکرمہ نے کہا: حَصَبُ جَهَنَّم : حبشی زبان میں وَقَالَ غَيْرُهُ اَحَشُوا (الانبیاء :۱۳) تَوَفَّعُوا جلانے کی لکڑی کو کہتے ہیں۔ان کے ماسوا اوروں مِنْ أَحْسَسْتُ خُمِدِينَ (الانبیاء : ١٦) نے کہا: اَحَشُوا یعنی انہیں اس کی توقع تھی۔هَامِدِينَ۔حَصِيدٌ مُسْتَأْصَلِّ يَقَعُ عَلَى يه أَحْسَنت سے ہے (یعنی میں نے آہٹ پائی) أمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً (الانبياء:٩٣) قَالَ دِينَكُمْ دِينٌ وَاحِدٌ۔وَقَالَ عِكْرِمَةً حَصَبُ 1 عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ بِالْحَبَشِيَّة“ ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۱۹ صفحہ ۶۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔