صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 39 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 39

صحيح البخاری جلد ۳۹ ۶۵ کتاب التفسير الطه باب ۲ کے عنوان میں لقد بعض نسخوں میں نہیں ہے۔لیکن یہ درست نہیں۔کیونکہ یہ آیت کریمہ کے خلاف ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۲) پوری آیت یہ ہے: وَ لَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَاضْرِبُ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَا تَخْفُ دَرَكَا وَ لَا تَخْشَى (طه : ۷۸) اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا اور انہیں سمندر میں خشک راستے سے گزار۔تمہیں خوف نہ ہو کہ پیچھے سے پکڑے جاؤ گے۔نہ (سمندر میں غرق ہونے کا) کوئی خوف ہو۔چنانچہ فرعون نے مع اپنے لاؤ لشکر کے اُن کا تعاقب کیا اور وہ سمندر میں غرق کر دیئے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کی قوم کو نجات ملی۔یہ نجات کا دن بنی اسرائیل میں منایا جاتا ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۴۷۳۷ میں ذکر ہے۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الصوم تشریح باب صیام یوم عاشوراء) سورۃ طلا کے موضوع کے تعلق میں ان تینوں ابواب کے قائم کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان قوموں کو خواہ کتنی ہی ڈھیل ملے اور وہ کتنی کیوں نہ زور آزمائی کر لیں۔آخر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ہے جو مثیل موسیٰ نہیں۔مسلمانوں کو آخر ان قوموں کے تسلط سے نجات ملے گی اور یہ نجات آسمانی تدبیر سے ہو گی۔444