صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 38
صحيح البخاری جلد ۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير الطه بَاب ٣ : فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى (طه: ۱۱۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) وہ تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے ورنہ تم مشقت جھیلو گے ٤٧٣٨: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ :۴۷۳۸: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا بْنُ النَّجَارِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ که ایوب بن نجار نے ہمیں بتایا۔انہوں نے يجي أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بن ابی کثیر سے، يحجي نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ہے، ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَاجَّ مُوسَى آدَمَ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: موسیٰ نے آدم فَقَالَ لَهُ أَنْتَ الَّذِي أَخْرَجْتَ النَّاسَ سے بحث کی اور ان سے کہا: آپ وہی ہیں جنہوں الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ وَأَشْقَيْتَهُمْ۔قَالَ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے قَالَ آدَمُ يَا مُوْسَى أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ نکال دیا تھا اور اُن کو مشقت میں ڈال دیا۔آپ اللهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى نے فرمایا: آدم نے کہا: موسیٰ " آپ وہی ہیں جن کو أَمْرٍ كَتَبَهُ اللهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي الله نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے چنا، أَوْ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي قَالَ کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں کہ جس رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو اللہ نے پیشتر اس کے کہ وہ مجھے پیدا کرے میرے متعلق لکھ دیا تھا یا ( فرمایا: ) پیشتر اس کے کہ وہ مجھ کو پیدا کرے میرے لئے مقدر کر دیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم نے مِنَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى۔أطرافه : ٣٤٠٩، ٤٧٣٦، ٦٦١٤، ٧٥١٥۔اس دلیل سے) موسیٰ کو لاجواب کر دیا۔ریح: باب نمبرا کے عنوان سے متعلق ابو احمد جرجانی کے نسخہ صحیح بخاری میں وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِینی کی جگہ حرف وَاصْطَفَيْتُكَ ہے جو تصحیف یعنی کتابت کی غلطی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۱) باب نمبر ۱ تا ۳ میں مع روایات سورۃ طلہ کے سیاق کلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ تقدیر الہی ہے کہ دجالی اقوام کو غلبہ حاصل ہو جو عارضی ہو گا اور انجام کار غلبہ اس مشیت الہی کو ہی ہے جو خالق ہے اور اس نے شیطان کو حق و حکمت کے ساتھ وجود پذیر کیا ہے تاکہ مقابلہ میں انسان کے خوابیدہ قومی ظاہر ہوں اور وہ آہستہ آہستہ اپنی پیدائش کی غرض وغایت پوری کرنے میں کامیاب ہو۔