صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 36 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 36

صحیح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير طه کمزور ہونا۔ لا تنیا کے یہ معنی بسند مجاہد حضرت ابن عباس سے مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۱) اللہ تعالٰی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرماتا ہے: اذْهَبُ انْتَ وَأَخُوكَ بِايَتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِى (طه: ۴۳) یعنی تو اور تیرا بھائی میرے نشانوں کے ساتھ جاؤ اور میرے ذکر میں دونوں نے کوتاہی نہیں کرنی۔ باب ۱ : وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي (طه: ٤٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) میں نے تجھے تیار کر کے اپنی ذات کے لئے چن لیا ہے ٤٧٣٦ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۷۳۶ صلت بن محمد نے ہمیں بتایا۔ مہدی بن حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا میمون نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین نے مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے، رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْتَقَى آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى لِآدَمَ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: آدم و موسی آپس میں ملے۔ تو موسی ، آدم سے کہنے لگے : انْتَ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي آپ ہی وہ (آدم) ہیں جنہوں نے لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا اور اُنہیں جنت سے نکالا۔ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَاصْطَفَاكَ لِنَفْسِهِ آدم نے موسی سے کہا: آپ ہی وہ (موسی) ہیں وَأَنزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ قَالَ نَعَمْ۔ قَالَ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے چنا فَوَجَدْتَهَا كُتِبَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي اور اپنی ذات کے لئے مخصوص فرمایا اور آپؐ پر قَالَ نَعَمْ۔ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى الْيَمُّ تورات نازل کی؟ موسی نے کہا: ہاں۔ آدم نے کہا: (طه: ۹۸) الْبَحْرُ ۔ تو پھر آپ نے (تورات میں) یہ موجود پایا ہے کہ یہ بات ( جو آپ نے مجھ سے کہی ہے) میرے لئے ( ازل سے) مقدر ہو چکی تھی پیشتر اس کے کہ أطرافه: ٣٤٠٩، ٤٧٣٨، ٦٦١٤ ، ٧٥١٥۔ اللہ تعالیٰ مجھے پیدا کرتا۔ موسیٰ نے کہا: ہاں۔ چنانچہ آدم نے موسیٰ کو اس دلیل سے لاجواب کر دیا۔ الیم کے معنی ہیں سمندر۔