صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 35
۳۵ صحیح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير / طه تمہیں بطور بطور رزق دی ہیں اور اس (رزق) کے بارے میں حدود سے نہ بڑھوتا ایسا نہ ہو کہ تم پر میرا غضب نازل : جس پر میرا غضب نازل ہو وہ بلند مقام سے گر جاتا ہے۔ ہو ہوا اور طرف بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ سے مراد مبارک وادی ہے جس کا نام طُوًی۔ کا نام طُوًی ہے۔ اس سے سورۃ طہ کی اس آیت کی اشارہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ والی تجلی کا نظارہ دیکھا تو وہاں وہ آئے اور اُن سے کہا گیا: إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعُ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى وَ أَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعُ لِمَا يُوحَى (طه: ۱۳، ۱۴) یعنی یقینا میں ہی تیرا رب ہوں اس لئے اپنی جوتیاں اُتار کر پھینک دے کیونکہ تو وادی مقدس میں ہے جو طوی ہے۔ اور میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا ہے۔ پس جو وحی کی جاتی ہے اسے توجہ سے سن۔ بعض نے طُوًی سے اللَّيْل یعنی رات مراد لی ہے۔ کہتے ہیں أَتَيْتُكَ طُوًى مِنَ اللَّيْلِ میں رات کے وقت تیرے پاس آیا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۵۹) لفظ نعل بطور استعارہ و مجاز استعمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں : اِخْضَرَّتْ نِعَالُ الْقَوْمِ قوم کی جوتیاں ہری بھری ہو گئیں۔ یعنی لوگ ہرے بھرے (خوشحال) ہو گئے۔ (المعجم الوسیط، نعل) خَلَعَ نَعْلَيْهِ کے معنی ہیں جو تیاں جھاڑ دیں، اُتار دیں۔ یعنی دنیاوی تعلقات توڑ دیئے ۔ فَاخْلَعُ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقدس سے یہی مراد ہے کہ دنیا کے تعلقات سے الگ ہو جا۔ (دیکھئے تفسیر صغیر، سورة طه، حاشیہ زیر آیت إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْدَعْ نَعْلَيْكَ ۔۔۔ بملكنا کے معنی ہیں اپنے اختیار ہے۔ گوسالہ پرستی کے تعلق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم معذرت کرتی اور کہتی ہے : مَا اخْلَقْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَنَفْنَهَا فَكَنْ لِكَ الْقَى السَّامِرِی (طه: ۸۸) یعنی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے خلاف ورزی نہیں کی بلکہ فرعون کی قوم کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لاد دیا گیا تھا اس کو ہم نے ڈال دیا اور سامری نے اپنی کاریگری سے یہ شکل بنائی۔ مَكَانًا سُوی: یعنی ایسی جگہ جو درمیان میں ہو ، فاصلہ دونوں فریقین کے لئے برابر ہو۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متعلق کہا کہ وہ اپنی شعبدہ بازی اور دلفریب باتوں سے تم لوگوں کو تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے۔ فَلَنَا تِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِثْلِهِ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدً الَّا نُخْلِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ مَكَانًا سُوَى (طه: ۵۹) یعنی ہم تیرے مقابلے میں ویسی ہی شعبدہ بازی لائیں گے سو ہمارے اور اپنے درمیان ایسا مقام وعدے کا مقرر کر جس سے نہ ہم پیچھے ہٹیں اور نہ تو ۔ ایسی جگہ ہو جو درمیان کے برابر فاصلے پر ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَيْنَكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَتْكَ فُتُونَا فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَمُوسَى ۔ وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي (طه: ۴۱، ۴۲) اور تو نے ایک جان قتل کر دی تھی پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور آزمائشوں کی کھٹائی میں ڈال کر تجھے اچھی طرح کندن کیا اور تو اہل مدین میں کئی سال رہا پھر ٹھیک اندازے پر پہنچ گیا اے موسیٰ اور میں نے تجھے اپنی ذات کے لئے تیار کر کے چن لیا ہے۔ قَدَر کے معنی ہیں صحیح اندازہ، مقررہ وقت۔ لا تَنِيَا لَا تَضْعُفَا یعنی تم دونوں کمزور نہ ہو۔ یہ وَنَی بَنی سے ہے۔ ضَعُفَ يَضْعَفُ ضَعْفًا کے معنی ہیں