صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 34
11 سمسم ۶۵ - كتاب التفسير / طه صحیح البخاری جلد سے بڑھ کر۔ ایک دوسری روایت میں یہ معنی بیان کئے گئے ہیں: اَعْلَمُهُمْ فِي اَنْفُسِهُمْ یعنی اُن میں سے سب سے بڑھ کر عالم ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۰) یہ لفظ سورۃ طہ کی اس آیت میں آیا ہے : نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا (طه: ۱۰۵) یعنی ہم خوب جانتے ہیں وہ بات جو وہ کہیں گے جب ان میں سے بلحاظ مذہب کے سب سے زیادہ عالم ، عام ، زیادہ عالم ، عاقل اور عمل کرنے والا کہے گا تم تو صرف ایک دن ہی رہے ہو۔ اس آیت سے پہلے آیت يومَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۔۔ آیا ہے۔ دونوں آیتوں کا مفہوم پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ هَضْماً : بمعنی ظلم یعنی کمی۔ فرماتا ہے : فَلَا يَخْفُ ظُلْمًا وَلَا هَضْبًا یعنی ظلم یا نیکیوں کے ثواب میں کمی کا اسے ڈر نہیں ہو گا۔ ہضم کا یہ مفہوم ابن ابی حاتم نے بحوالہ سند علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۰) پوری آیت یہ ہے : وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخْفُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمان (طه: ۱۱۳) اس آیت کا سیاق یہ ہے کہ جب قیامت خیز گھڑی دنیا میں برپا ہو گی تو پہاڑوں جیسی رکاوٹیں دور کی جائیں گی اور خدائے حی و قیوم کے سامنے تمام گردنیں جھک جائیں گی۔ ظالم نامراد ہو گا اور مومن نیک بدلہ پائے گا۔ اس پر کسی قسم کی زیادتی یا اس کے حق میں سے کمی نہ ہوگی۔ عوَجًا وَادِيًا وَ لَا امْتَا رَابِيَةً کے معنی ہیں کہ کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ یہ تفسیر اس آیت کی ہے: لا ترای فِيهَا عِوَجًا وَ لا اَمَنَّاه (طه: ۱۰۸) یعنی تو اس میں نشیب و فراز نہیں دیکھے گا۔ اس آیت سے پہلی آیت میں پہاڑ اُڑائے جانے کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پہاڑوں کو اُڑا کر صاف چٹیل میدان بنا دیا جائے گا۔ اس کی شرح پہلے گزر چکی ہے عربی لغت میں پہاڑ کے معنی بڑے آدمی بھی کیے گئے ہیں اور رکاوٹ بھی۔ عِوَجًا و لا آمنا کے معنی ٹیڑھا پن اور موڑ ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ یعنی سطح زمین بالکل ہموار ہو جائے گی۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۰) سیاق کلام سے پایا جاتا ہے کہ نشیب و فراز پستی و بالائی کا فرق ہر طرح سے دور کر کے پورا پورا عدل قائم ہو گا اور بنی نوع انسان صحیح مساوات سے بہرہ ور ہوں گے۔ ضنكًا بمعنی شقاوت، تلخی، مصیبت اور بد بختی۔ یہ معنی مذکورہ بالا راویوں ہی نے حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں اور عکرمہ سے بھی یہی معنی مروی ہیں اور قیس بن ابی حازم سے رِزْقًا فِي مَعْصِيَة منقول ہیں یعنی الہی احکام کی معصیت کر کے رزق کا ملنا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۵۱) فرماتا ہے : وَ مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَ نَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أَعْلَى (طه) : (۱۲۵) اور جس نے میری یاد دہانی سے اعراض کیا تو اسے تکلیف دہ زندگی مقدر ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ ھوی کے معنی ہیں شقی ہو گیا، بے نصیب ہوا، ذلیل ہو گیا۔ فرماتا ہے : كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَى (طه: ۸۲) یعنی کھاؤ پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے ا ترجمه حضرت خليفه المس رت خلیفة المسیح الرابع : اور وہ اور وہ جس نے اس حال میں نیکیاں کی ہوں گی ہوں گی کہ وہ مومن تھا تو وہ کسی ظلم یا حق تلفی کا خوف نہیں کرے گا۔