صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 33 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 33

صحيح البخاری جلد ٹھٹھر سمسم ۶۵ - كتاب التفسير طه بقبس کے متعلق بتایا ہے کہ ضَلُّوا الطَّرِيقَ وَكَانُوْا شَائِینَ یعنی وہ راستے سے بھٹک گئے اور سردی رہے تھے ، ابن عیینہ نے بسند عکرمہ حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۰) ضالین (گم کرده راه هدایت یعنی مسیحی اقوام) سردی میں ٹھٹھریں گی اور خواہش کریں گی کہ کاش کوئی دھکتا انگارہ ہی مہیا کر دے جس سے گرمی حاصل کر سکیں یا اس کی روشنی سے راہ نجات دیکھ سکیں گویاوہ بوجہ اندھا پن کے تاریکی میں ہوں گے۔اس لئے قبس کی خواہش کریں گے۔یتمثیلی بیان ہے جس کا ذکر بحوالہ حضرت مسیح علیہ السلام متی میں بھی پایا جاتا ہے۔آپ نے تمثیل بیان فرماتے ہوئے آخر میں یہ بتایا کہ اس پر بادشاہ نے خادموں سے کہا اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر باہر اندھیرے میں ڈال دو۔وہاں رونا اور دانت پینا ہو گا۔کیونکہ بلائے ہوئے بہت ہیں مگر برگزیدہ تھوڑے۔“ ( متی باب ۱۳:۲۲، ۱۴) آگ کے انگارے کا ذکر سورۃ طلا میں جو آیا ہے، اس سے مراد نور ونار ہدایت ہے۔فرماتا ہے: وَهَلْ آتنك حَدِيثُ مُوسى إِذْ رَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امكثوا إلى أنَسْتُ نَارًا لَعَلَى اتِيْكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى (طه: ۱۱) (اور کہا:) تیرے پاس موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے (یا نہیں ) جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اس نے اپنے اہل سے کہا( یہیں ) ٹھہرے رہو۔میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں جا کر اس آگ سے کوئی انگارہ تمہارے لئے بھی لے آؤں یا اس آگ کے طفیل راہنمائی حاصل کروں۔چونکہ جو تجلی حضرت موسیٰ " پر اس نظارے سے ہوئی وہ آگ کی شکل میں تھی اس لئے اس نظارے کی نسبت سے سب الفاظ بطور استعارہ بولے گئے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ تجلی شخصی ہے تو میں آگ پر اپنے لئے ہدایت حاصل کروں گا، اگر قومی ہے تو تمہارے لئے روشنی اور ہدایت کا سامان لاؤں گا، جس سے تم فائدہ اٹھاؤ گے۔(دیکھئے تفسیر صغیر، سورۃ طلا حاشیہ آیت نمبر ۱۱) وادی طوی میں جانے سے دونوں باتوں میں سے کوئی نہ کوئی بات حاصل ہو گی وصالِ الہی یا تمہاری ہدایت کا سامان۔یہ واقعہ بجلی، سورۃ نمل میں بھی تقریباً انہی الفاظ میں بیان ہوا ہے اور وہاں زیادہ تفصیل ہے اور یہ الفاظ ہیں: سَأْتِيَكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ أُتِيَكُم بِشِهَابٍ قَبَسِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ (النمل: ۸) یعنی میں یقینا تمہارے پاس وہاں سے کوئی اہم خبر لاؤں گا یا تمہارے پاس ایک چمکتا ہوا انگارہ لاؤں گا تا کہ تم آگ سینکو (اور اپنے ٹھٹھرنے کو دور کرو۔) یہ الفاظ بھی استعارہ ہی ہیں۔حضرت ابن عباس کا پہلا قول ابن عیینہ نے بواسطہ عکرمہ نقل کیا ہے اور ابوذر کے نسخہ صحیح بخاری میں تُوْقِدُوْنَ کی جگہ تَدْفَتُونَ نقل کیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۰) دَفَا کے معنی ہیں سردی دور کرنے کے لئے گرمی حاصل کرنا۔اوپر جو مفہوم بیان کیا گیا ہے وہ اسی لفظ کو مد نظر رکھ کر ہے۔ایسے ممیلی استعارات انبیاء کے محاورے میں بکثرت استعمال ہوتے رہے ہیں۔أمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً : يعنى ( بلحاظ طریق اور مذہب) باقی لوگوں کی نسبت نہایت اعتدال پر ہے۔لفظ أمثل کی یہ شرح ابن عیینہ سے منقول ہے۔لیکن طبری نے سعید بن جبیر سے اَوْفاهُمْ عَفْلا نقل کئے ہیں۔یعنی عقل میں سب