صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 32
۶۵ - کتاب التفسیر اطه صحيح البخاری جلد سے اس صورت و شکل میں بنایا ہے۔کیونکہ سامری نے یہی تجویز کی اور اُن کے لئے ایک بچھڑے کا نمونہ بنا دیا جو بے جان جسم تھا اس سے ایک بے معنی آواز نکلتی تھی اور لوگوں نے کہا کہ یہ تمہارا اور موسیٰ" کا معبود ہے جو وہ بھول گئے۔اس آیت میں قَدَفَنَهَا کے معنی ہیں الْقَيْنَهَا جو صَنَعْنَهَا کا مترادف ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔انقی السامری یعنی سامری نے اپنی کاریگری سے سونے کو اس شکل میں ڈھالا ہے جس میں سے آواز پید اہوتی ہے اور اس نے کہا: اسے پو جو یہی تمہارا اور موسیٰ کا رب ہے جسے وہ بھول گئے۔گوسالہ پرستی کے تعلق میں ذکر گزر چکا ہے اور بتایا جا چکا ہے۔سامری اور بنی اسرائیل کا ذکر یہاں بطور کہاوت نہیں کیا گیا جیسا کہ اسی سورۃ میں صراحت سے بتایا گیا ہے کہ یہ غیب کی اہم خبریں ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کی قوم سے ہے۔هَمْسًا کے معنی ہیں قدموں کی آہٹ۔يَوْمَن يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ الأَهَمسان ( طه : ۱۰۹) اس دن وہ دعوت حق دینے والے کی اتباع کریں گے جس کی تعلیم میں کوئی کبھی نہیں اور رحمن کے لئے تمام آوازیں دھیمی ہو جائیں گی تو سوائے آہٹ سے نہیں سنے گا۔الْأَعْمَی کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت سے اندھا - وَقَد كُنتُ بَصِيرًا حالانکہ میں دنیا میں خوب دانا بینا تھا۔فریابی نے یہ معنی مجاہد سے نقل کیسے ہیں۔پوری آیت یہ ہے: قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَغْلَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا (طه: ۱۲۶) اس نے کہا: اے میرے رب ! مجھے کیوں اندھا اُٹھایا بحالیکہ میں (دنیا میں ) خوب دانا بینا تھا۔قالَ كَذلِكَ اتَتْكَ التُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسى (طه: ۱۲۷) اللہ تعالیٰ نے کہا: اس طرح ہماری آیات تیرے پاس آئی تھیں جسے تو نے بھلا دیا اور اسی طرح آج تو بھی بھلایا جائے گا۔لفظ هَمْس اور اعلمی کا مذکورہ بالا مفہوم مجاہد اور فتادہ سے منقول ہے۔ابو عبیدہ نے هَمْسًا کے معنی صَوْتًا خَفِيفًا کتے ہیں یعنی بھنک۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۵۰) سلسلہ مجازات کے تعلق میں یہ ذکر کر دینا بے محل نہ ہو گا کہ قیامت کے روز جنت و دوزخ دراصل انسانی اعمال کے ہی تمثلات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فلسفہ اُصولِ اسلامی میں اس حقیقت کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔آپ نے فرمایا: " قرآن شریف کی رو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں۔کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔یہ سچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں در حقیقت گندھک کے پتھر ہیں۔بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت دوزخ انہی اعمال کے انعکا سات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔“ 66 (اسلامی اُصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۳)