صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 31
صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسیر اظه اثر پڑے گا اور وہ اپنی قوت اور شدت اور نقصان رسانی میں غیر معمولی ہوں گے جن کے دیکھنے سے انسانوں کے ہوش جاتے رہیں گے۔یہ سب کچھ خدا کی غیرت کرے گی۔۔۔سوالے سننے والو! تم سب یاد رکھو کہ اگر یہ پیشگوئیاں صرف معمولی طور پر ظہور میں آئیں تو تم سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔لیکن ان پیشگوئیوں نے اپنے پورے ہونے کے وقت دنیا میں ایک تہلکہ برپا کر دیا اور شدت گھبراہٹ سے دیوانہ سا بنا دیا اور اکثر مقامات میں عمارتوں اور جانوں کو نقصان پہنچایا تو تم اس خدا سے ڈرو جس نے میرے لئے یہ سب کچھ کر دکھایا۔وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔“ (تجلیات الہیہ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۹۶،۳۹۵) اس پیشگوئی کے تعلق میں آپ لکھتے ہیں کہ تھوڑی غنودگی کی حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک کاغذ پر لکھا ہوا مجھے یہ دکھلایا کہ تِلْكَ ايْتُ الكتب المُبِينِ یعنی قرآن شریف کی سچائی پر یہ نشان ہوں گے۔اس وضاحت سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے زمانے کے نذیر کی انذاری پیشگوئیاں در حقیقت ملتی ہیں اور اُن میں مسیحی دجالی اقوام کی اُس انداری پیشگوئی کا اعادہ اور یاد دہانی ہے جو سورۃ الکہف، سورہ مریم اور سورۃ طلہ کا موضوع ہیں۔اس تعلق کی وجہ سے مجھے ان تمام باتوں کا ذکر کرنا پڑا ہے۔اللہ تعالی کا فرمانا: قاعا یعنی چٹیل سطح زمین جس میں پانی بھر جائے۔عبد الرزاق نے بواسطہ معمر قتادہ سے قاعاً صَفْصَفا کے معنی چپٹی ہموار سطح زمین کے بتائے ہیں۔فراء ادیب نے بھی یہی معنی کیسے ہیں اور بتایا ہے کہ ایسی صاف زمین جہاں کوئی روئیدگی نہ ہو اور چکنی ہونے کی وجہ سے قدم نہ ٹھہر سکے۔یعنی پھسلاؤز مین (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۹) قو اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے: وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفَانِ فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (طه: ۱۰۶، ۱۰۷) یہ آیت مع ترجمہ اپنے سیاق کے ابھی گزر چکی ہے۔مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ : اس سے مراد سونے کا زیور ہے جو بنی اسرائیل کے گھروں میں بصورت مستعار موجود تھا۔مصری لوگ اُن سے قرضہ لیتے اور اس کے عوض میں اپنا زیور رہن رکھتے جیسا کہ ہمارے ہاں زمیندار سا ہو کاروں وغیرہ سے روپیہ لینے پر اپناز یور رہن رکھتے ہیں۔ان کے ہاں بھی یہ طریق تھا اور جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نکلے ہیں تو یہ زیور بھی ان کے پاس ہی تھا اور یہی اکٹھا کر کے سامری کے حوالے کیا۔یہاں لفظ انتقال سے یہی زیور مراد ہے جسے ڈھال کر سونے کا بچھڑا پرستش کے لئے بنایا گیا۔اس کا ذکر اس آیت میں ہے: قَالُوا مَا اخْلَقْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَكِنَا حَمَلْنَا اَوْزَارًا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفَنَهَا فَكَذلِكَ الْقَى السَّامِرِيُّ ، فَاخْرَجَ لَهُمْ عجلًا جَسَدَ اللَّهُ خَوَارٌ فَقَالُوا هَذَا إِلَهُكُمْ وَاللَّهُ مُوسَى فَنَسِيَ ( طه : ۸۸، ۸۹) اُنہوں نے کہا: ہم نے تیرے وعدہ کو اپنے اختیار سے رڈ نہیں کیا بلکہ لوگوں کی زیب وزینت کا جو بوجھ ہم پر لاد دیا گیا تھا۔اُسے ہم نے اپنی کاریگری