صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 30 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 30

صحیح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسير الطه دیوتاؤں کے لئے گائے کی قربانی کرتے تھے اور اسے مقدس سمجھتے تھے لیکن ہندوؤں کی گوسالہ پرستی اس شدت کی ہے کہ اس کا پیشاب و گوبر اُن کے نزدیک پوتر (مقدس) ہے اور اس کا پیشاب پیتے ہیں اور اسی انتہائی محبت کی طرف آیت وَأَشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ (البقرۃ: ۹۴) میں اشارہ کیا گیا ہے۔یعنی وہ بچھڑے کی محبت پلائے گئے۔پیشاب تک پینے سے عار نہ کرنا اس سے بڑھ کر اور کیا محبت ہو سکتی ہے۔اسی محبت کی دیوانگی میں وہ سینکڑوں مسلمانوں کو ذبح کر دینے کو عین ثواب سمجھتے ہیں، اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ فلاں گاؤں میں مسلمانوں نے گائے کی بنک کی ہے یا اسے ذبح کیا ہے۔آئے دن بھارت میں مسلمانوں کو اب تک ذبح کیا جاتا ہے۔محض اس لیے کہ یہ خبر اڑا دی جاتی ہے کہ گائے ذبح کی گئی ہے۔اور مسلمانوں کو مع ان کے گھروں کے جلا کر راکھ کر دیا جاتا ہے۔شاید ہمارے اس بیان کو کوئی مبالغہ سمجھے کہ ہندوؤں کے نزدیک گائے نہایت ہی مقدس جانور بلکہ دیوی ہے جس کا پیشاب، گوبر وغیرہ بھی مقدس یقین کیا جاتا ہے۔بلکہ ان کے نزدیک گائے کا دودھ ، دہی، گھی، پیشاب اور گوبر کا معجون مرکب، بد ہضمی، مرگی اور امراض آسیب (جنون) کے لئے مفید ہے۔(رسالہ آریہ مسافر لکھنو ۱۳ اکتوبر ۱۹۲۷) مشہور پنڈت دھرم بھکشو اسی رسالے میں لکھتے ہیں گائے کا پیشاب ہاضم، مقوی معدہ، عقل کا تیز کرنے والا، بلغم اور بلغمی امراض، جذام، امراض شکم، یرقان، حرارت جگر، بواسیر، کھجلی، سوزش، ورم منه، آشوب چشم، جلدی امراض اور مستورات کی اندرونی اور بیرونی بیماریوں کو دور کرنے والا ہے۔(رسالہ آریہ مسافر لکھنو ۱۳ اکتوبر۱۹۲۷) سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کی شرح میں بتایا جا چکا ہے کہ ہمارے اس موعودہ زمانے میں ہم میں سے ایک نذیر آیا جس نے مذکورہ بالا ہنگامہ محشر برپا ہونے سے بہت قبل بڑے زور آور حملوں کے بارے میں کھلے الفاظ میں خوف دلایا اور پانچ تہلکہ برپا کرنے والے زلزلوں کی نسبت اطلاع دی اور اس اطلاع میں وضاحت کی کہ میری یہ پیشگوئی کتاب اللہ کی آیات میں سے ایک بہت بڑا نشان ہو گا۔اس انذار کی نسبت خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے یہ الفاظ ہیں: چمک دکھلاؤں گا تم کو اِس نشاں کی پنج بار“ (تجلیات الهیه ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۹۵) ان الفاظ کے علاوہ زلزلے کا لفظ بھی بار بار آیا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیت إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (الزلزال: ۲) ہے، یعنی ساری زمین زلزلوں سے ہلائی جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس انذار کے بارے میں ان الفاظ میں وضاحت کی ہے: اس وحی الہی کا یہ مطلب ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ محض اس عاجز کی سچائی پر گواہی دینے کے لئے اور محض اس غرض سے کہ تا لوگ سمجھ لیں کہ میں اس کی طرف سے ہوں، پانچ دہشت ناک زلزلے ایک دوسرے کے بعد کچھ کچھ فاصلہ۔آئیں گے تا وہ میری سچائی کی گواہی دیں اور ہر ایک میں اُن میں سے ایک ایسی چمک ہو گی کہ اس کے دیکھنے سے خدا یاد آجائے گا اور دلوں پر اُن کا ایک خوفناک