صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 29 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 29

صحيح البخاری جلد ۲۹ ۶۵ - کتاب التفسير الله کہہ رہے ہوں گے ، جب ان میں سے سب سے زیادہ مذہب کا پابند کہے گا کہ تم تو صرف ایک دن ہی رہے ہو۔ان آیات میں مندرجہ ذیل باتیں واضح طور پر بیان ہوئی ہیں۔ا پہلے واقعات کی خبریں بطور پیشگوئی بیان ہوئی ہیں اور ان کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے۔۲ نیلگوں آنکھوں والے مجرموں کے لئے اسی دنیا میں ایک بہت بڑا محشر تیار کیا جائے گا جس سے ان کے بڑے بڑے بول پست ہو جائیں گے۔ان عیسائی مجرموں کا زمانہ حکومت خواہ کتنا بھی دراز ہو دس صدیوں سے متجاوز نہیں ہو گا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی ہے کہ یوم سے مراد ایک ہزار سال ہے۔اِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ) (الحج: ۴۸) کہ تیرے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔یہ ایک ہزار سال کی میعاد وہی ہے جس کا تعلق الہی گرفت سے ہے۔چنانچہ اس آیت میں پہلے فرماتا ہے: وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللهُ وَعْدَة (الحج: ۴۸) اور یہ لوگ عذاب الہی کی نسبت جلدی چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے ہر گز خلاف نہیں کرے گا۔يَقُولُ آمَثَلُهُمْ طَرِيقَة (طه: ۱۰۵) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اپنے مذہبی رہنما کے نزدیک انکی مذہبی کتابوں کی پیشنگوئیوں کی رو سے موعودہ محشر سے متعلق یہی اندازہ ہے۔یہ مضمون لمبا ہو جائے گا اگر عیسائی مصنفین کے حوالے نقل کئے جائیں۔۴ مذکورہ بالا صراحت کے معابعد یہ آیات ہیں: وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفَانِ فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفَا لَا تَرى فِيهَا عِوَجًا وَ لَا آمنان ( طه : ۱۰۶ تا ۱۰۸) اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق پو پوچھتے ہیں تو اُن سے کہہ کہ میرا رب اُنہیں اڑا دے گا اور چٹیل میدان کی صورت میں انہیں چھوڑ دے گا کہ اس میں کوئی موڑ یانشیب و فراز تو نہیں دیکھے گا۔اس آیت میں لفظ نسف دہرایا گیا ہے جو پہلے لَنَنْسِفَنَّهُ فِی الْيَمِ ( طه : ۹۸) میں ابھی گزر چکا ہے جس سے ظاہر ہے کہ گوسالہ سامری کا ذکر ضمنا ہے اور دراصل اس کا تعلق دجالی اقوام سے متعلق عظیم الشان انذاری پیشگوئی سے ہے جس کا ذکر کتاب التفسیر ، تفسیر سورۃ گھیعص باب ۶ کی تشریح میں گزر چکا ہے۔وہاں بھی پہاڑوں کے گرائے جانے کی واضح پیشگوئی ہے۔مذکورہ بالا پیشگوئی کے ضمن میں ایک اور اہم بات کا ذکر کرنا ضروری ہے جس سے واقعات کی مماثلت کا مزید علم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ سامری نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں شرک کی تعلیم دی اور انہیں گوسالہ پرستی کی طرف مائل کیا۔ہو بہو اسی کے مشابہ واقعہ کا تعلق مسلمانوں کی بد اعتقادی اور بد عملی سے ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی گوسالہ پرست مشرک ہندو اقوام کے درمیان عرصہ دراز تک بودو باش رکھنے کی وجہ سے ان کے مشرکانہ عقائد اور بد رسوم اخذ کیں اور اس سے نہایت درجہ متاثر ہوئے کہ ان بدر سوم کا استیصال کار دارد ہے۔مصریوں کی گوسالہ پرستی جس کی نقل سامری نے کی، ہندوؤں کی گوسالہ پرستی سے بہت کم درجے کی تھی۔وہ اپنے