صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 28
صحیح البخاری جلد ۲۸ ۶۵ - كتاب التفسير / طه کے سامنے بیٹھ کر تو اس کی پرستش کیا کرتا تھا ہم ضرور اس کو جلائیں گے اور پھر اس کی راکھ سمندر میں پھینک دیں گے۔ سورۃ الکہف، سورۃ مریم اور سورۃ طہ کا موضوع مد نظر رکھا جائے تو اسلام میں سامری کے قائم مقام وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموده عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ کے مصداق ہیں، جس کی وجہ سے اُمت محمدیہ کئی فرقوں میں بٹ گئی۔ موجودہ قابل افسوس حالت اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی جس طرح انذار کا یہ حصہ پورا ہوا ہے بشارت والا حصہ بھی اس زمانہ میں پورا ہونا تھا جس کے لئے خود علماء ہی نے چودھویں مانے چودھویں صدی کا زمانہ مقرر کیا تھا۔ کے تینوں باتیں پوری ہو چکی ہیں مسیحی فتنہ کی شدت، علماء کا شر عظیم اور مسیح ابن مریم کا ظہور۔ اس کے بعد کیا انتظار ہے ؟ ۲ لَنَفْسِفَنَّہ کے معنی ہیں کہ ہم سمندر میں اُسے اُڑا دیں گے یعنی ہوائیں بچھڑے کی راکھ کو منتشر کر دیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول بظاہر گوسالہ سامری سے متعلق ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان الفاظ کا اعادہ بموجب اس کی اپنی تصریح کے اور اس سورۃ کے سیاق کی رو سے یہ پیشگوئی ہے جس کا تعلق ان بحری اور فضائی جنگوں سے ہے جن میں دجالی اقوام کی تباہی مقدر ہے۔ یہ ہے۔ یہ امر کہ آیا فی الواقعہ گوسالہ سامری کے اس تذکرہ کا تعلق مسیحی اقوام کی بحری اور ہوائی جنگوں سے ۔ آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔ فرماتا ہے : لَنُحَرْ قَنَّهُ ثُمَّ لَنَفْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا إِنَّمَا الْهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا كَذلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ آتَيْنَكَ مِن لَّدُنَا ذِكْرًا مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وِزْرًا خَلِدِينَ فِيْهِ وَسَآءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ حِمْلًا يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا (طه : ۹۸ تا ۱۰۵) یعنی ہم اس کو جلائیں گے اور پھر اُس کو سمندر میں پھینک دیں گے۔ تمہارا معبود تو صرف وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ اپنے علم سے ہر چیز پر محیط ہے۔ اسی طرح ہم گزرے ہوئے واقعات کی خبریں تم پر بیان کرتے ہیں اور یقینا ہم نے اپنے حضور سے تجھے یہ ذکر عطا کیا ہے۔ جو اس سے منہ پھیرے گا، وہ قیامت کے روز ایک بہت بڑا بوجھ اُٹھائے گا۔ اس حالت میں وہ بڑی دیر تک رہیں گے۔ قیامت کے روز یہ بوجھ بہت تکلیف دہ ہو گا۔ جس روز بگل پھونکا جائے گا اور مجرموں کو ہم اس روز جن کی آنکھیں نیلی ہیں ہنگامہ آرائی کے لئے اکٹھا کریں گے ۔ ( ان کی آوازیں دھیمی ہو جائیں گی ) وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے کہ تم تو صرف دس (صدیاں) ہی ( اس دنیا میں حاکم ) رہے ہو۔ ہم خوب جانتے ہیں جو وہ ا (شعب الايمان للبيهقي، (۱۸) باب في نشر العلم ، فصل قال وينبغى لطالب العلم أن يكون تعلمه ۔۔۔ جزء ۳ صفحه ۳۱۷) ( حجج الكرامة في آثار القيامة ، فصل شانزدهم در بیان بعثت مجد دین بر سر هر مائة، صفحہ ۱۳۹) ( احوال الآخرة كلان مصنفہ مولوی محمد دلپذیر، ابتداء آثار قیامت کبری که اول آن ظهور امام مهدی علیه السلام است۔ صفحه ۵۱،۵۰) ( اقتراب الساعة، خاتمة الرساله، صفحه ۲۲۱) (النجم الثاقب حصہ دوم، حاشیه صفحه ۲۰۹)