صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 28 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 28

صحيح البخاری جلد PA ۶۵ کتاب التفسیر اظه کے سامنے بیٹھ کر تو اس کی پرستش کیا کرتا تھا ہم ضرور اس کو جلائیں گے اور پھر اس کی راکھ سمندر میں پھینک دیں گے۔سورۃ الکہف، سورۃ مریم اور سورۃ طہ کا موضوع مد نظر رکھا جائے تو اسلام میں سامری کے قائم مقام وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرموده عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ کے مصداق ہیں، جس کی وجہ سے اُمت محمدیہ کئی فرقوں میں بٹ گئی۔موجودہ قابل افسوس حالت اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی جس طرح انذار کا یہ حصہ پورا ہوا ہے بشارت والا حصہ بھی اس زمانہ میں پورا ہونا تھا جس کے لئے خود علماء ہی نے چودھویں صدی کا زمانہ مقرر کیا تھا۔تینوں باتیں پوری ہو چکی ہیں مسیحی فتنہ کی شدت، علماء کا شر عظیم اور مسیح ابن مریم کا ظہور۔اس کے بعد کیا انتظار ہے ؟ لَنَسفَنَّہ کے معنی ہیں کہ ہم سمندر میں اُسے اُڑا دیں گے یعنی ہوائیں بچھڑے کی راکھ کو منتشر کر دیں گی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول بظاہر گوسالہ سامری سے متعلق ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان الفاظ کا اعادہ بموجب اس کی اپنی تصریح کے اور اس سورۃ کے سیاق کی روسے یہ پیشگوئی ہے جس کا تعلق ان بحری اور فضائی جنگوں سے ہے جن میں دجالی اقوام کی تباہی مقدر ہے۔یہ امر کہ آیا فی الواقعہ گوسالہ سامری کے اس تذکرہ کا تعلق مسیحی اقوام کی بحری اور ہوائی جنگوں سے ہے۔آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔فرماتا ہے : لَنْحَرُقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِ نَسُفَانِ إِنَّمَا الهُكُمُ اللهُ الَّذِي لَا إلهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا كَذَلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَ قَدْ أَتَيْنَكَ مِن لَّدُنَا ذِكْرًا مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وِزْرا خَلِدِينَ فِيْهِ وَسَآءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ حِلَا يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَبِن زُرُقًا يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُم إِن لَبِثْتُم إِلَّا عَشْرَانِ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةٌ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا ( طه : ۹۸ تا ۱۰۵) یعنی ہم اس کو جلائیں گے اور پھر اُس کو سمندر میں پھینک دیں گے۔تمہارا معبود تو صرف وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔اپنے علم سے ہر چیز پر محیط ہے۔اسی طرح ہم گزرے ہوئے واقعات کی خبریں تم پر بیان کرتے ہیں اور یقینا ہم نے اپنے حضور سے تجھے یہ ذکر عطا کیا ہے۔جو اس سے منہ پھیرے گا، وہ قیامت کے روز ایک بہت بڑا بوجھ اُٹھائے گا۔اس حالت میں وہ بڑی دیر تک رہیں گے۔قیامت کے روز یہ بوجھ بہت تکلیف دہ ہو گا۔جس روز بنگل پھونکا جائے گا اور مجرموں کو ہم اس روز جن کی آنکھیں نیلی ہیں ہنگامہ آرائی کے لئے اکٹھا کریں گے۔(ان کی آوازیں دھیمی ہو جائیں گی) وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے کہ تم تو صرف دس (صدیاں ) ہی ( اس دنیا میں حاکم ) رہے ہو۔ہم خوب جانتے ہیں جو وہ (شعب الايمان للبيهقی، (۱۸) باب فى نشر العلم ، فصل قال وينبغى لطالب العلم أن يكون تعلمه۔۔۔۔جزء ۳ صفحه ۳۱۷) ( حجج الكرامة في آثار القيامة ، فصل شانزدهم در بیان بعثت مجد دین بر سر ہر مائة، صفحہ ۱۳۹) (احوال الآخرة كلان مصنفه مولوی محمد دلپذیر، ابتداء آثار قیامت کبری که اول آن ظهور امام مهدی علیه السلام است۔صفحه ۵۱٬۵۰) اقتراب الساعة، خاتمة الرساله، صفحه ۲۲۱) (النجم الثاقب حصہ دوم، حاشیہ صفحہ ۲۰۹)