صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 27
صحیح البخاری جلد ۲۷ ۶۵ - كتاب التفسير / طه سو تم اپنی تمام تدبیریں اکٹھے ہو کر سوچ لو اور پھر سب کے سب ایک جماعت کی شکل میں آؤ اور یقیناً آج وہی بامراد ہو گا جو غلبہ حاصل کرے گا (جس کا بول بالا ہو گا)۔ فَأَوْجَسَ کے معنی ہیں اَضْمَر یعنی خوف چھپایا۔ خاف اصل میں خوف ہے واؤ مکسور کسرہ کی وجہ سے یاء میں تبدیل ہوئی اور اس سے مصدر خِيفَةً ہے۔ فرماتا ہے : فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسا موسى ، قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الأعلى (طه: ۶۸ ، (۶۹) موسی اپنے جی میں ڈرے۔ ہم نے کہا: مت ڈر تو ہی غالب ہو گا۔ اس آیت سے بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی تسلی دی گئی ہے جو طہ کے مفہوم کے عین مطابق ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات دہرانے سے مقصود آپؐ کی تسلی ہے۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کتنی ہی خوفناک سازشیں تیرے خلاف کی جائیں اور تیرے مخالف متفق ہو کر تیرے خلاف اٹھیں تو وہ تجھے نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ إِنَّكَ أَنتَ الأعلیٰ غلبہ تجھے ہی حاصل ہو گا۔ في جذوع النَّخْلِ : اس فقرہ میں حرف فی بمعنی علی ہے۔ کھجور کے تنوں پر میں تمہیں سولی دوں گا اگر تم نے موسیٰ" کا ساتھ دیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نہایت تلخ سزا۔ فرماتا ہے : قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ أَذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمْ الَّذِي عَلَيْكُمُ السِّحْرَ فَلَا قَطِعَنَ أَيْدِيَكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمْنَ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَ ابْقى (طه: ۷۲) (فرعون نے) کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی اس پر ایمان لے آئے ہو۔ یقینا وہ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں یہ شعبدہ بازی سکھائی ہے۔ اس لئے میں تمہارے ہاتھ پاؤں اس خلاف ورزی کی وجہ سے کٹوا دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں سے لڑکا کر سولی دوں گا اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون سخت اور دیر پاسزا دینے پر قادر ہے۔ مسلمانوں کے حق میں اس آیت کی تطبیق یہ ہے کہ اگر انہوں نے غیر مسلم حکام کا ساتھ نہ دیا اور ان کا مذہب نہ اختیار کیا تو نہایت تلخ زندگی کا مزا انہیں چکھایا جائے گا۔ خَطْبُكَ کے معنی ہیں: تیرا حال۔ مَا بَالُكَ ؟ یعنی تیرا کیا حال ہے یا کیا وجہ ہے؟ فرماتا ہے : قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يُسَامِرِيُّ ، قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي (طه: ۹۶، ۹۷) یعنی (موسیٰ نے سامری سے) کہا: اے سامری ! کیا وجہ ہے کہ تو نے اتنا بڑا نا گوار کام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں نے وہ بات تاڑ لی تھی جو انہیں نہیں سوجھی۔ اس لئے میں نے رسول کی باتوں سے ایک چھوٹی سی بات اختیار کی جسے میں نے پھینک دیا اور میرے نفس نے یہی چیز اچھی صورت میں سوجھائی۔ الفاظ فَأَوْجَسَ، فِي جُذُوعِ ، خَطْبُكَ اور مساس کی شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۹) لا مساس سے معلوم ہوتا ہے کہ سامری کو مقاطعہ کی سزا دی گئی تھی۔ چنانچہ فرماتا ہے: قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيُوةِ أَنْ تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَ إِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَنْ تُخْلَفَهُ وَانْظُرُ إِلَى الهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَالِفًا لَنْحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَفْسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفَان (طه: (۹۸) یعنی کہا تو جا اس دنیا میں تیری یہی سزا ہے کہ تو کہتا رہے مجھے نہ چھوؤ ( تعلق نہ رکھو) اور تیرے لئے سزا کا ایک وقت مقدر ہے جسے تو نہیں ٹلا سکے گا اور تو اپنے معبود کی طرف دیکھ جس