صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 26
صحيح البخاری جلد ۲۶ ۶۵ - کتاب التفسير الطه لفظ القی بمعنی صَنَعَ آیا ہے۔فریابی نے یہ معنی مجاہد سے نقل کیے ہیں۔(فتح الباری، شرح کتاب احادیث الانبیاء، باب ۲۲، جزء ۶ صفحه ۵۱۹) فرماتا ہے: قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى وَالْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سُحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آتی ( طه : ۷۰۶۹) یعنی ہم نے کہا خوف نہ کر تو ہی بالا رہے گا ( اور اے موسیٰ) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے اسے ڈال دے جو کچھ اُنہوں نے کارستانی کی ہے وہ اسے نگل جائے گا۔ان کی کارستانی شعبدہ باز کی فریب دہی ہے اور شعبدہ باز جس صورت میں بھی ہو ، کامیاب نہیں ہوتا۔اس آیت سے پہلے لفظ انقی اس آیت میں آیا ہے: اِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ أَوَّلَ مَنْ اَلْقی (طه: ۶۶) یعنی یا تو ( اپنی تدبیر ) پھینک (یعنی ظاہر کر یا ہم تجھ سے پہلے پھینکیں۔مجاہد نے سیاق کلام کی بنا پر ہی انٹی کے معنی صَنَعَ بتائے ہیں کہ جو کارستانی کے معنوں میں ہے اور انفی کے یہ معنی خود اس آیت کے سیاق و سباق سے ہی اخذ کئے گئے ہیں۔آزدی کے معنی ہیں ظہری یعنی میری پیٹھ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ ( انکے طفی) وہ حد سے بڑھ گیا ہے تو انہوں نے ان الفاظ میں دعا کی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَ يَسير في أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَ اجْعَلْ لى وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي هَرُونَ أَخِي اشْدُدُ بِهَ آذری ( کله : ۲۶ تا ۳۲) یعنی اے میرے رب! میرا سینہ میرے لئے کھول دے اور جو حکم تو نے مجھے دیا ہے میرے لئے آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ بھی کھول تا لوگ میری بات پورے طور پر سمجھ لیں اور میرے اہل میں سے ہی میرا ایک مددگار نائب بنا۔ہارون کو جو میرا بھائی ہے اور اس کے ذریعے سے میری پیٹھ مضبوط فرما۔اسی آزر سے آزر و آزر ہے۔یعنی اس نے مدد کی اور مضبوط کیا۔کہتے ہیں : أَنصُرُكَ نَصْرًا مُؤَذِّرًا میں تجھے ایسی مدد دوں گا جس سے تیری پیٹھ مضبوط ہو جائے گی۔فَيُسْحِتَكُم : يُهْلِكَكُمْ یعنی تمہیں ہلاک کر دے گا۔لفظ سخت میں نہیں ڈالنے والی ہلاکت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔یعنی ایسی ہلاکت جو تمہیں نہیں کر دے۔فرماتا ہے: قَالَ لَهُمْ مُوسَى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افترای ( طه : (۶۲) موسیٰ نے اُن سے کہا: وائے تم پر۔اللہ پر جھوٹ نہ باند ھو مبادا وہ تمہیں سزا سے ہلاک کر دے اور جس نے افتراء کیا وہ یقیناً نامراد رہا۔المثلى : مؤنث ہے امثل کی یعنی اعلی درجے کا۔قَالُوا ان هذين لسحانِ يُرِيدَانِ أَنْ يُخْرِجُكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِ هِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُقلی (طه: ۶۴) یعنی اُنہوں نے کہا یہ دونوں (موسیٰ و ہارون) محض جادوگر ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک میں سے نکال دیں اور جو اعلیٰ درجے کا تمہارا مذہب ہے اسے ختم کر دیں۔یہ الزام بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی لگایا گیا کہ آپ بہت بڑے جادوگر ہیں اور یہی الزام ہمارے زمانے میں امام ربانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی عائد کیا گیا کہ یہ مذہب میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔انتوا صفا کے معنی ہیں اکٹھے ہو کر آؤ کہتے ہیں هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَ الْيَوْمَ : کیا تو نماز گاہ میں آیا تھا یعنی جماعت میں شریک ہوا تھا۔فرماتا ہے: فَاجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ انْتَواصَفًا وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلَى (طه: ۶۵)