صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 25 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 25

صحيح البخاری جلد ۲۵ ۶۵ کتاب التفسير الطه قرار دیا ہے جو بدل ہیں اطْمَئِنَّ کا اور ھا سکتہ کی ہے۔طہ: بالکل مطمئن رہ۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۹) طہ کے بعد کی آیات کا سیاق دونوں تاویلوں کے عین موافق ہے۔Oab مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى (طه: ۲، ۳) اے رجل کامل مطمئن رہ، ہم نے قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اُتارا کہ تو ہماری رحمت سے کسی وقت محروم ہو جائے اور طلہ کا یہ مفہوم سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کے موضوع سیاق کے بھی مطابق بیٹھتا ہے جیسا کہ مفصل بتایا جا چکا ہے کہ سورۃ الکہف میں باس شدید سے متعلق انذار ہے اور یہ انذار سورۃ مریم میں بھی دہرایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اُمتِ اسلامیہ کے لئے آنے والا خطرہ مسیحی اقوام سے تعلق رکھتا ہے اور سورۃ مریم کے مضمون کا بیشتر حصہ بشارت سے متعلق ہے۔سورۃ طہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کا ذکر ہے جن کے ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں اُن کی قوم نے ارتداد اختیار کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور سے واپس آکر انہیں صراط مستقیم پر بحال کیا۔اسی تعلق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت کا بھی ذکر آیا ہے۔فرماتا ہے : قد أُوتِيتَ سُولك يموسى (طہ:۳۷) یعنی اے موسیٰ ! جو تو نے مانگا، تجھے دیا گیا۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی اُمت کے لئے دعا اور اس کی قبولیت کی طرف اشارہ ہے۔آپ نے یقیناً اپنی امت کے لئے بہت دعائیں کیں اور ضروری تھا کہ وہ قبول ہوں۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ضمن میں فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ اَنْزَلْنَهُ قُرَانًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمُ ذِكْرًا فَتَعلَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقِّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحَيهِ ۖ وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلماں (طه: ۱۱۴، ۱۱۵) اور اسی طرح ہم نے یہ کتاب عربی زبان میں بطور قرآن نازل کی ہے اور اس میں ہم نے موعودہ انذار کو مختلف پیرایوں میں بار بار کھول کر بیان کیا ہے تا وہ بچیں ورنہ ان کے لئے یاد دہانی کا سامان نئے سرے سے پیدا کرے۔وہ اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے بہت ہی بلند شان والا ہے اور اس قرآن سے متعلق جلدی نہ کرو پیشتر اس کے کہ اس کی وحی پورے طور پر تجھ تک نہ پہنچا دی جائے اور یہ دعا کرتارہ: اے میرے رب ! مجھے علم میں اور بڑھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی تفسیر میں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ سورۃ طہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات زیادہ تر مذکور ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات سورۃ مریم میں مذکور ہیں اور یہ دونوں سورتیں باعتبار شان نزول ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہیں۔اس سے عیسائی مستشرقین کا یہ اعتراض باطل ہو جاتا ہے کہ آپ نے مدینہ میں پہنچ کر یہودیوں سے یہ حالات سنے اور انہیں ان سورتوں میں بیان کر دیا۔اگر ان سورتوں کا سیاق سامنے ہو تو سرسری نظر سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں علم غیب پر مشتمل ہیں اور ان میں عظیم الشان آئندہ کی خبروں کا ذکر ہے۔اس حقیقت سے مستشرقین کے اعتراض کا بود اپن اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔سورۃ طلا کی آیت وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَری میں ان کے اس اعتراض کارڈ موجود ہے۔فرماتا ہے: قَالَ لَهُمْ مُوسَى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابِ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَری (طه: ۶۲) موسیٰ نے ان سے کہا: تم پر افسوس اللہ پر جھوٹ نہ باندھو مبادا تمہیں عذاب کے ذریعہ سے پیس ڈالے اور جو کوئی اللہ پر افترا کرتا ہے وہ یقیناً نا کام ہوتا ہے۔