صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 24
صحیح البخاری جلد ۲۴ ۶۵ - كتاب التفسير / طه تَنِيَا (طه: ٤٣) لَا تَضْعُفَا يَفْرُطَ مبارک وادی میں۔ طوی وادی کا نام ہے۔ بملكنا ( طه : ٤٦) عُقُوْبَةٌ ۔ کے معنی ہیں اپنے اختیار ہے۔ مَكَانًا سُوی سے مراد ایسی جگہ ہے جو ان کے درمیان برابر (فاصلہ پر ہو۔ یبسا کے معنی ہیں خشک۔ علی قدر کے معنی ہیں اپنے مقررہ وقت پر۔ لا تنیا کے معنی ہیں تم دونوں کمزور نہ ہونا۔ يفرط سے مراد سزا ہے۔ تشريح : قَالَ ابْنُ جُبَيْرِ بِالنَّبَطِيَّةِ لَا يَا رَجُلٌ : لہ بھی زبان میں یا رجل کا مترادف ہے۔ سعید بن جبیر کا یہ قول بخاری کے بعض نسخوں میں عکرمہ اور ضحاک سے مروی ہے۔ معنی ہیں اے مرد یہ مرد کامل یعنی ایسا شخص جو صفات رجولیت و مردمی سے پورے طور پر متصف ہو۔ عکرمہ سے طلہ کے یہ معنی ابن ابی حاتم اور حاکم نے نقل کئے ہیں۔ امام حاکم کی روایت میں ہے ہیں۔ امام حاکم کی روایت میں ہے کہ طلا زبان حبشی میں یا میں یا مُحَمَّد کا ہم معنی ہے۔ مفہوم انہوں نے حضرت ابن عباس عباس سے نقل کیا ہے۔ محمدؐ کے معنی ہیں سراپا سر ایا خوبیوں۔ خوبیوں سے متصف رجل کامل اور محمد اس زبان میں ہم معنی سمجھے جاتے ہیں۔ ضحاک بن مزاحم) کے نزدیک بھی نبطی زبان میں طه رجل کامل کے معنوں میں ہے اور طلبہ کا یہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ امام ابن حجر نے بنی مازن کے ایک شخص کا ذکر کیا ہے کہ ایک دن اس نے یہ دعویٰ کیا کہ قرآن مجید میں سے کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں تو ضحاک نے اس سے طلا کے معنی پوچھے اور اس نے جواب دیا کہ یہ اسماء الہیہ میں سے ایک اسم ہے۔ جس پر انہوں نے اس سے کہا: إِنَّمَا هُوَ بِالنَّبَطِيَّةِ يَا رَجُلُ : یعنی یہ لفظ تو نبطیہ میں يَا رَجُل کا مترادف ہے۔ اہل علک بھی طلبہ کو انہی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۴۹) نبط یا انباط عربوں ہی کی ایک قوم کا نام کا نام ہے جو زمانہ قدیم میں فلسطین کے اطراف میں آباد تھی اور اس کی زبان عربی ہی کا ایک لب و لہجہ تھا۔ یہ انباط تاجر پیشہ لوگ تھے جن کی تجارت مصر ، شام، عراق اور ممالک روم تک ممتد تھی اور ان کی زبان شستہ تھی اور ان میں شاعر اور اطباء اپنے زمانے میں شہرت رکھتے تھے۔ یہ لوگ صنم پرست تھے۔ خاص کر لات دیوی کی پوجا کرتے تھے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ جسما نامی قبائل انہی میں سے تھے جو ہجرت کر کے شمالی حجاز میں آباد ہوئے۔ اسی طرح تک نام قبیلہ سامی النسل تھا جو تہامہ سے جدہ تک کے علاقہ جات میں آباد تھے۔ عکی لوگوں کا بھی لب و لہجہ عربی ہی تھا۔ قبائل انباط وعک میں طه يا رجل کے معنوں میں مستعمل تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید عربوں کے مختلف لہجوں میں نازل ہوا ہے۔ طہ کا اسلوب خطابی ہے ا ہے اور اس لفظ سے رسول اللہ صلی اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔ ہیں۔ متعد دراوی طہ بمعنی یا رجل کی نسبت متفق ہیں۔ جن میں سے جلیل القدر نحوی خلیل بن احمد بھی ہیں اور بعض راویوں نے طلبہ کو حروف مخففہ میں سے