صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 23
صحيح البخاری جلد ۶۵ - کتاب التفسیر الله مُوسَى هُمْ يَقُولُونَهُ أَخْطَأَ الرَّبَّ۔فَقَذَفْتُهَا کے معنی ہیں کہ پھر میں نے اس کو لا يرجع اليهم قولا (طه:٩٠) الْعِجْل پھینک دیا۔القی یعنی اس نے کیا۔فنسی سے مراد هَمْسًا (طه: ۱۰۹) جس الْأَقْدَام حضرت موسی نہیں، (لوگ) کہتے تھے کہ وہ رب کو بھول کر پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔لَا يَرْجِعُ اِلَيْهِمُ حَشَرْتَنِي أَعلى (طه: ١٢٦) عَنْ حُجَّتِي، قَوْلًا سے مراد بچھڑا ہے کہ وہ انہیں کسی بات کا وَقَد كُنتُ بَصِيرًا (طه: ١٢٦) فِي الدُّنْيَا۔جواب نہیں دیتا۔ھمسا سے مراد ہے قدموں کی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَبَس (طه: ۱۱) آہٹ۔حسرتی اعلی سے مراد ہے کہ تو نے ضَلُّوا الطَّرِيقَ وَكَانُوا شَاتِينَ فَقَالَ مجھے دلائل کی بینائی سے محروم اٹھایا ہے۔وَقَدُ إِنْ لَّمْ أَجِدْ عَلَيْهَا مَنْ يَهْدِي الطَّرِيقَ كُنْتُ بَصِيرًا کے معنی ہیں حالانکہ میں دنیا میں آتِكُمْ بِنَارٍ تُوقِدُونَ۔قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ خوب دانا بینا تھا۔حضرت ابن عباس نے بقبس اَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً (طه: ١٠٥) أَعْدَلُهُمْ کے متعلق کہا کہ وہ راستے سے بھٹک گئے اور سردی سے ٹھٹھر رہے تھے تو (حضرت موسیٰ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَضْبًا (طه: ۱۱۳) نے) کہا: اگر میں نے اس (آگ) پر کوئی ایسا شخص لَا يُظْلَمُ فَيُهْضَمُ مِنْ حَسَنَاتِهِ نه پایا جو راستہ بتا سکے تو میں تمہارے آگ جلانے عِوَجًا (طه: ١٠٨) وَادِيا، ولا آمنا کے لیے کوئی انگارہ ہی لے آؤں گا۔ابن عیینہ نے (ظه :١٠٨) رَابِيَةً۔سِيرَتَهَا (طه:٢٢) کہا : امْثَلُهُمْ طَرِيقَةُ کے معنی ہیں اُن میں سے حَالَتَهَا الْأَوْلَى النُّهى (طه: ٥٥) سب سے معتدل طریق اختیار کرنے والا۔اور التَّقَى ضَنْكًا (طه: ١٢٥) الشَّقَاءُ هَوى حضرت ابن عباس نے کہا: هَضْبًا یعنی اس پر (طه: ۸۲) شَقِي۔بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ (طه: ۱۳) ظلم نہ ہو گا کہ اس کی نیکیوں کا ثواب کم کیا جائے۔عوجا کے معنی ہیں وادی ولا آمیا کے معنی ہیں الْمُبَارَكِ، طُوًى اسْمُ الْوَادِي بِمَلْكِنَا اور نہ کوئی بلندی۔سیرتھا سے مراد ہے: اسکی (طه:۸۸) بِأَمْرِنَا مَكَانًا سُوى (طه: ٥٩) پہلی حالت۔النُّھی سے مراد ہے پر ہیز گاری۔مَنْصَفٌ بَيْنَهُمْ۔يَبِّسا (طه: ۷۸) يَابِسًا ضَنگا کے معنی ہیں مصیبت۔ھوی کے معنی ہیں عَلَى قَدَرٍ (طه:٤١) عَلَى مَوْعِدٍ لا بد نصیب ہو گیا۔بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ سے مراد ہے