صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 22 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 22

صحيح البخاری جلد ۲۲ ۶۵ - كتاب التفسیر اظه ٢٠ـ طه قَالَ ابْنُ جُبَيْرِ بِالنَّبَطِيَّةِ له يَا رَجُلُ، ابن جبیر نے کہا: نبطی زبان میں لفظ طلہ کے معنی يُقَالُ كُلُّ مَا لَمْ يَنْطِقُ بِحَرْفٍ أَوْ فِيهِ ہیں اے مرد۔کہتے ہیں: جو کوئی حرف نہ بول تَمْتَمَةٌ أَوْ فَأَفَأَةً فَهِيَ عُقْدَةً (طه: ۲۸) سکے یا اس ( کی زبان) میں تلاہٹ ہو یا ”فا“ کی اَزْرِي (طه: ۳۲) ظهري۔فَيُسْحِتَكُم آواز بار بار ہو ، تو یہ عُقْدَةً ہے یعنی گرہ۔ازری کے معنی ہیں میری پیٹھ۔فَسُحِتَكُمْ کے معنی (طه: ٦٢) يُهْلِكَكُمْ الْمُثْلَى (طه: ٦٤) ہیں وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔المُثلى مؤنث تَأْنِيتُ الْأَمْثَل يَقُولُ بِدِينِكُمْ، يُقَالُ خُذِ الْمُثْلَى خُذِ الْأَمْثَلَ ثُمَّ انْتَوَاصَها ہے امثل کی، یعنی تمہارے بہترین مذہب کو۔کہا جاتا ہے خُذِ الْمُثْلَی یعنی بہترین کو لے لو۔ثُمَّ : ظة: ٦٥) يُقَالُ هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَّ الْتُوْا صَفًّا (یعنی اکٹھے ہو کر آؤ۔) کہا جاتا ہے: الْيَوْمَ يَعْنِي الْمُصَلَّى الَّذِي يُصَلَّى هَلْ أَتَيْتَ الصَّفَّ الْيَوْمَ یعنی کیا تو آج نماز کی فِيهِ۔فَأَوْجَسَ (طه: ٦٨) أَضْمَرَ خَوْفًا جگہ جہاں (یا جماعت) نماز پڑھی جاتی ہے آیا تھا۔فَذَهَبَتِ الْوَاوُ مِنْ خِيفَةً (طه: ٦٨) فَاَوْجَس کے معنی ہیں خوف چھپایا۔خِيفَةً لِكَسْرَةِ الْحَاءِ فِي جُذُوعِ (طه:٧٢) أَيْ اصل میں خوف ہے، ”خ“ کی کسرہ کی وجہ سے عَلَى جُذُوعِ النَّخْلِ خَطْبُكَ (طه: ٩٦) واؤ، یاء میں تبدیل ہوئی ہے۔في جذوع (میں بَالُكَ مِسَاسَ (طه: ۹۸) مَصْدَرُ مَاسَّهُ حرف فی بمعنی علی ہے۔) یعنی کھجور کے تنوں مِسَاسًا لَنَنْسِفَنَّهُ (طه: ۹۸) لَنَذْرِيَنَّهُ پر۔خطبك سے مراد ہے تیرا حال۔مِسَاس مصدر ہے مَاسَّهُ مَسَاسًا سے (یعنی چھونا۔) قاعا (طه: ۱۰۷) يَعْلُوهُ الْمَاءُ وَالصَّفْصَفُ لَنَفَنَّہ سے مراد ہے ہم اُسے بکھیر دیں گے۔الْمُسْتَوِي مِنَ الْأَرْضِ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ قَاعًا کے معنی ہیں ایسا میدان جس میں پانی بھر اَوْزَارًا (طه: ۸۸) أَثْقَالًا مِنْ زِينَةِ جائے۔اور الصَّفْصَفُ کے معنی ہیں ہموار زمین۔الْقَومِ (طه: ۸۸) الْحُلِيُّ الَّذِي اسْتَعَارُوا اور مجاہد نے کہا: اوزارا کے معنی ہیں بوجھ۔مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، فَقَدَفْتُهَا فَأَلْقَيْتُهَا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ سے مراد وہ زیور ہے جو الْقَى (طه: ۸۸) صَنَعَ فَنَسِي (طه: ۸۹) (بنی اسرائیل نے ) آلِ فرعون سے مستعار لیا تھا۔