صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 21 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 21

صحيح البخاری جلد ۲۱ -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - یوروپین عیسائی مخالفین اسلام کا یہ اعتراض کہ رسول اللہ صلی ال یکم نے یہودیوں سے یہ حالات سن کر بیان کیے ہیں اس عظیم الشان سیاق کلام سے از خود باطل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ بہت بڑے علم غیب پر مشتمل ہے۔جس کی تائید آج واقعات سے ہو چکی ہے۔فرماتا ہے : تَكَادُ السَّماتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ الْجِبَالُ هَنَّاه (مريم: 1) یہ الفاظ ممکن ہے کہ پہلے مخالفین مبالغہ آمیز سمجھتے ہوں لیکن ہمارے زمانہ کے واقعات نے ان الفاظ کی حرف بحرف تصدیق کر دی ہے۔چاہیئے کہ معترضین خالی الذہن ہو کر اس بات پر غور کریں کہ ایسا کلام جو دور دراز واقعات سے متعلق علم غیب پر مشتمل ہو انسانی کلام ہے یا اس عالم الغیب خدا کا کلام ہے جس کے بارے میں فرماتا ہے: علِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِ سُلْتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاحْطى كُلّ شَيْءٍ عَدَدًان (الجن: ۲۷ تا۲۹) یعنی غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا مگر اسی کو جسے اپنا (رسول) پیغامبر چن لیتا ہے۔سو وہ یقیناً اس کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتوں کا انتظام کرے گا تا کہ معلوم ہو جائے کہ ان رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات یقیناً پہنچا دیئے ہیں اور اس نے جو کچھ ان کے پاس ہے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے اور ہر شے کا ایک ایک کر کے شمار کر چکا ہے۔اس آیت سے پہلے رسول کی بشری لا علمی کا ان الفاظ میں اظہار فرماتا ہے: قُلْ إِنْ أَدْرِى أَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَل لَه رَى أَمَدًا ( الجن: ۲۶) یعنی ان سے کہہ مجھے پتہ نہیں کہ جس گھڑی کی نسبت تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ قریب ہے یا اللہ اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر کرے گا۔اس وعید کے بارے میں تفصیلات کا ذکر بعد میں ہو گا۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرزتے ہوئے گر پڑیں۔