صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 20
صحیح البخاری جلد -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص - یقول و یا تینا فردا (مریم: ۷۸-۸۱ دولت اور اولاد ضرور دی جائے گی۔کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یارحمن سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ہرگز نہیں۔ہم اس کے اس قول کو محفوظ رکھیں گے اور اس کے عذاب کو لمبا کر دیں گے۔اور جس (چیز) پر وہ فخر کر رہا ہے اس کے ہم وارث ہو جائیں گے۔اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔أطرافه (۲۰۹۱ ،۲۲۷۰ ۲۲۵، ٤٧۳۲ ، ٤٧٣٣، ٤٧٣٤۔وَنَرِتُه مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا: اس باب کے تحت بھی آیت کے ایک حصے کا حوالہ دے کر حضرت خباب والی روایت ہی نئی سند سے دہرائی گئی ہے اور عنوان باب میں تَخِرُ الْجِبَالُ هَذا (مریم: ۹۱) کا حوالہ دیا گیا ہے اور روایت کے آخر میں آیت کا سارا سیاق کلام اکٹھا نقل کیا گیا ہے۔اس تصرف سے امام بخاری یہ توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ اتنی عظیم الشان پیشگوئی جس سے پہاڑ بھی گر جائیں، اسے سیاق کلام سے نظر انداز کر دینا اور ایک انفرادی معمولی واقعہ تک محدود رکھنا اس سیاق کلام اور پیشگوئی کی عظمت کے منافی ہے جس کا تعلق دجالی قوموں کی تباہی کے ساتھ ہے۔موجودہ تباہ کن آلات تابکاری کی نئی سے نئی ایجادات آتش خیزی و ہلاکت آفرینی کی موجودگی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ ہم قیامت کی اس موعودہ گھڑی کے سر پر ہیں ، جس کے بارے میں سورۃ مریم کی آیات میں انذار کیا گیا ہے اور اسی قسم کا انذار سورۃ الکہف میں بھی ہے۔امام ابن حجر تفسیر سورۃ مریم کے مذکورہ بالا ابواب کے متعلق لکھتے ہیں کہ فكَأَنَّهُ أَشَارَ إِلَى أَنَّهَا كُلَّهَا نَزَلَتْ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ بِدَلِيلِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَمَا وَافَقَهَا ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۵۴۸) یعنی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (عاص بن وائل کا واقعہ نقل کر کے) اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ ساری آیات اس واقعہ کی نسبت نازل ہوئی ہیں۔ایسا ہی ان واقعات کے متعلق بھی جو اس کے موافق ہوں۔مجھے امام ابن حجر کی رائے سے قطعا اتفاق نہیں کیونکہ نہ صرف سیاق کلام اس رائے کے خلاف ہے بلکہ امام بخاری کے اشارے اور ان کے مقصد تصرف سے ان کی رائے کی تائید نہیں ہوتی بلکہ جیسا کہ میں وضاحت کر چکا ہوں۔سورۃ مریم کا نزول بہت بڑی پیشگوئی سے متعلق ہے جو نزولِ مسیح، کسر صلیب، قتل دجال اور قیامت خیز انقلاب کے بارے میں نہ صرف اس سورۃ میں مذکور ہے بلکہ احادیث میں بھی اس کی صراحت ہے اور یہ پیشگوئی کسر صلیب اور قتل دجال کے نام سے مسلمانوں میں اس قدر شہرت رکھتی ہے کہ شاید ہی کوئی فرد اس سے ناواقف ہو اور پھر میں کہتا ہوں کہ کسی انفرادی واقعہ سے آیات کی تطبیق ان کے اصل سیاق کے منافی نہیں۔اس قسم کی انفرادی تطبیق عارضی اور وقتی ہوتی ہے اور سیاق کلام کا شانِ نزول اس تطبیق سے بالکل الگ شے ہے۔