صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 19
صحيح البخاری جلد 19 -۲۵ کتاب التفسير / كهيعص بَاب ٦ : قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا (مريم : ۸۱) اللہ عزوجل کا فرمانا: اور جس (چیز) پر وہ فخر کر رہا ہے اس کے ہم وارث ہو جائیں گے۔اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْجِبَالُ هَنَّا اور حضرت ابن عباس نے کہا: الْجِبَالُ هَنَّا کے معنی ہیں کہ پہاڑ گر جائیں گے۔هَذَا هَدْمًا کا (مريم : ۹۱) هَدْمًا۔مترادف ہے ( یعنی گر جانا۔) ٤٧٣٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۴۷۳۵: یحی (بن موسیٰ بنٹی) نے ہم سے بیان عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے ابو الضحی سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مَّسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابِ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مسروق نے حضرت خباب سے روایت کی۔انہوں قَيْنًا وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِل نے کہا: میں لوہار آدمی تھا اور عاص بن وائل کے دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لِي لا دے میرا کچھ قرضہ تھا اس لئے میں اس کے پاس أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قَالَ قُلْتُ اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا۔اس نے مجھ سے کہا: تا وقتیکہ تو محمد (صلی ا ) کا انکار نہ کرے میں تجھے لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ۔نہیں دوں گا۔اُنہوں نے بتایا کہ میں نے کہا: اگر تو قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثُ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ مر بھی جائے اور پھر زندہ اُٹھایا جائے تب بھی میں فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالِ آپ کا انکار نہیں کروں گا۔اس نے کہا: اچھا میں وَوَلَدٍ قَالَ فَنَزَلَتْ : أَفَرَعَيْتَ الَّذِى كَفَرَ موت کے بعد اگر زندہ اُٹھایا جاؤں گا تو پھر میں بايتِنَا وَ قَالَ لأوتَيَنَ مَالاً وَ وَلَدان ضرور مجھے ادا کر دوں گا، جب میں اپنے مال و اولاد کی طرف (دوبارہ) لوٹوں گا۔حضرت خباب کہتے أطلَعَ الغَيْبَ آمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ تھے کہ تب یہ آیت نازل ہوئی: أَفَرَعَيْتَ الَّذِى۔۔۔عَهْدًا كَلَّا سَنَكُتُبُ مَا يَقُولُ وَنَسُدُّ یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَا هِ وَ نَرِتُه مَا نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی