صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 19
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص باب ٦ : قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَ يَأْتِينَا فَرْدًا (مريم : ۸۱) اللہ عزوجل کا فرمانا: اور جس (چیز) پر وہ فخر کر رہا ہے اس کے ہم وارث ہو جائیں گے۔ اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْجِبَالُ هَذَا اور حضرت ابن عباس نے کہا: الْجِبَالُ هَذَا کے (مریم: ۹۱) هَدْمًا ۔ معنی ہیں کہ پہاڑ گر جائیں گے۔ هَذَا هَدْمًا کا مترادف ہے (یعنی گر جانا۔) ٤٧٣٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۴۷۳۵: يحي (بن موسیٰ بلخی) نے ہم سے بیان عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مَّسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مسروق نے حضرت خباب سے روایت کی۔ انہوں قَيْنَا وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِل نے کہا: میں لوہار آدمی تھا اور عاص بن وائل کے دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لِي لا نے میرا کچھ قرضہ تھا اس لئے میں اس کے پاس أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قَالَ قُلْتُ اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا۔ اس نے مجھ سے کہا: تا وقتیکہ تو محمد (صلی اللہ ) کا انکار نہ کرے میں تجھے علوم لَنْ أَكْفَرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ۔ نہیں دوں گا۔ اُنہوں نے بتایا کہ میں نے کہا: اگر تو قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثُ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ مر بھی جائے اور پھر زندہ اُٹھایا جائے: ا جائے تب بھی میں فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ آپ کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: اچھا میں وَوَلَدٍ قَالَ فَنَزَلَتْ : أَفَرَعَيْتَ الَّذِي كَفَرَ موت کے بعد اگر زندہ اُٹھایا جاؤں گا تو پھر میں بِايْتِنَا وَ قَالَ لَأُوتَيَنَ مَالًا وَ وَلَدًا ضرور تجھے ادا کر دوں گا، جب میں اپنے مال و اولاد کی طرف (دوبارہ) لوٹوں گا۔ حضرت خباب کہتے اطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ تھے کہ تب یہ آیت نازل ہوئی: أَفَرَعَيْتَ الَّذِي ۔۔۔ عَهْدًا كَلَّا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَ نَمُد یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا وَ نَرِثُهُ مَا نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی