صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 18 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 18

صحیح البخاری جلد IA -۲۵ کتاب التفسیر / گھیعص - عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے روایت کی۔(انہوں يُحَدِّثُ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ حَبَّابِ قَالَ نے کہا: میں نے ابو الضحی سے سنا۔وہ مسروق سے كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي بیان کرتے ہیں۔مسروق حضرت خباب بن ارت) دَيْنٌ عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلِ قَالَ فَأَتَاهُ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: میں يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أُعْطِيْكَ حَتَّى تَكْفُرَ زمانہ جاہلیت میں لوہاری کا کام کرتا تھا۔اور عاص بِمُحَمَّدٍ ( فَقَالَ وَاللهِ لَا أَكْفُرُ بن وائل کے ذمہ میر اکچھ قرض تھا۔کہتے تھے کہ وہ حَتَّى يُمِيتَكَ اللهُ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ اس کے پاس تقاضا کرنے کے لیے آئے۔وہ کہنے لگا: فَذَرْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ فَسَوْفَ جب تک محمد (صلی می کنم) کا انکار نہ کرو گے میں تجھے أُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ فَنَزَلَتْ ہر گز نہیں دوں گا۔حضرت خباب نے کہا: اللہ تجھے مار کر زندہ بھی کر دے، اللہ کی قسم ! تب بھی میں هَذِهِ الْآيَةُ : أَفَرَعَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِايْتِنَا آپ کا انکار نہیں کرنے کا۔اس نے کہا: اچھا پھر مجھے وَقَالَ لَأُوتَيَنَ مَالًا وَ وَلَدًا۔رہنے دو کہ میں مر جاؤں اور پھر زندہ اٹھایا جاؤں پھر (مریم: ۷۸) جب مجھے مال و اولاد دی جائے گی تو میں تجھے تیرا قرض ادا کر دوں گا۔تو یہ آیت نازل ہوئی: افرویت الَّذِی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور بہت سی اولا د ضرور دی جائے گی۔أطرافه (۲۰۹۱ ، ۲۲۷۰ ۲۲۵، ٤٧۳۲ ، ٤٧٣٣، ٤٧٣٥۔تشريح : كَلَّا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًا: اس باب کے تحت بھی سابقہ روایت ہی ایک دوسری سند سے نقل کی گئی ہے اور ایک انفرادی واقعہ پر سورۃ مریم کی یہ آیت بھی چسپاں کی گئی ہے۔یہ سورۃ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی اور نجاشی شاہ حبشہ کے سامنے اس کی آیات پڑھی گئیں۔اس وقت عیسائیوں کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ اچھے اور ہمدردانہ تھے لیکن جن باتوں کا اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے وہ ان کی علالت اور بد انجام سے متعلق ہیں اور اندار میں جو شدت ہے اس سے وحی الہی کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ کلام انسانی تخیل کا ساختہ پر داختہ نہیں کیونکہ انسان کا خیال و قیاس حالات مشہودہ کے تابع ہوتا ہے۔