صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 246
صحيح البخاری جلد ۲۴۶ ۶۵ - كتاب التفسير /ص مَّسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ نے ابوالضحیٰ سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت مَسْعُودٍ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ کی کہ انہوں نے کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعودؓ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَّمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ کے پاس گئے۔انہوں نے کہا: اے لوگو ! جس کو اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا کچھ علم ہو تو اُس کو کہے۔اور جس کو نہ ہو تو کہے: لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اللہ بہتر جانتا ہے۔کیونکہ یہ بھی علم کی علامت لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا اسْتَلَكُمْ ہے کہ جو بات انسان نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہے: اللہ بہتر جانتا ہے۔اللہ عزوجل نے اپنے نبی عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلفِينَ صَلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: قُلْ مَا اسْتَلَكُمْ تو (ص: ۸۷) وَسَأَحَدِثُكُمْ عَن الدُّخَانِ کہہ کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔اور میں تمہیں دَعَا قُرَيْشًا إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَبْطَئُوا عَلَيْهِ دخان کی نسبت بتاتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعِ كَسَبْعِ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام قبول کرنے کے يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ فَحَصَّتْ كُلَّ لئے دعوت دی۔انہوں نے آپ کی بات ماننے شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ حَتَّى میں دیر کر دی۔آپ نے دعا کی: اے میرے جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الله ! ان کے خلاف سات سالوں سے میری مدد دُخَانًا مِنَ الْجُوعِ قَالَ اللهُ فرما، جو یوسف کے سات سالوں کی طرح ہوں۔فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِينِ چنانچہ ان کو قحط نے آپکڑا۔اور اس نے ہر چیز کو فنا کر دیا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ه مردار اور چمڑے تک کھائے۔حالت یہ تھی کہ (الدخان: ۱۱، ۱۲) قَالَ فَدَعَوْا رَبَّنَا آدمی اپنے اور آسمان کے درمیان بھوک کی وجہ عَزَّ وَجَلَّ اكشف عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ، أَنَّى سے دھواں دیکھتا۔اللہ عزوجل نے یہ بھی فرمایا لهم الذكرى وَ قَدْ جَاءَهُمْ رَسُول تھا: فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأتي۔یعنی اس دن کا انتظار کر مُّبِين۔ثُمَّ تَوَلَّوا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّم جس دن آسمان گھلا کھلا دھواں لائے گا جو لوگوں مجْنُونَ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیلا کو ڈھانپ لے گا۔یہ وہی درد ناک عذاب ہے۔