صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 244
صحیح البخاری جلد ۲۴۴ ۶۵ - كتاب التفسير / ص آیت جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوم مِنَ الْأَحْزَابِ ) اپ (ص:۱۲) ' سے قریش کالاؤ لشکر مراد ہے۔ یہی مجاہد سے بسند فریابی منقول ہے۔ هُنَالِكَ ظرف مکان نہیں اور نہ ہی کوئی خاص جگہ مقصود ہے۔ بلکہ اسم موصول ما اور هُنَالِكَ ان کے لوٹنے کے مقام پر دلالت کرتا ہے۔ ( فتح الباری، جزء ۸ صفحہ ۶۹۳) پیشگوئی کی عظمت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ یعنی قریش کے جتھے بری طرح شکست کھائیں گے۔ أوليكَ الْأَحْزَابُ۔ مجاہد کے نزدیک ان الفاظ سے سے قرون اولیٰ کی قومیں مراد ہیں۔ (فتح الباری، ری، جزء جز صفحه (۶۹۳) ۸ فواق کے معنی ہیں رجوع یعنی لوٹنا۔ اور معمر نے قتادہ سے فواق کے معنی مقویة یعنی ٹھکانہ نقل کئے ہیں۔ آیت مَا لَهَا مِنْ فَوَاقِ (ص: ۱۶) سے مراد یہ ہے کہ اس میں وقفہ راحت نہیں۔ یہ مفہوم شدی سے مروی ہے۔ فواق کے معنی ہیں اُونٹنی کے دوہنے کے بعد کا وقفہ ۔ لفظ فواق کی قراءت سے متعلق اختلاف ہے۔ بعض نے فواق اور بعض نے فواق پڑھا ہے۔ دونوں تلفظ درست ہیں اور معنوں میں فرق نہیں۔ جیسے قُصَاصُ الشَّعْرِ اور قصاص یعنی بالوں کا کترنا۔ قِطَّنَا عَذَابَنَا: قطَّنَا سے مراد نَصِيبَنَا مِنَ الْعَذَابِ ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۹۳) یعنی جو سزا ہمارے نصیبہ میں ہے وہ ہمیں یہیں دے دی جائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ کفار کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِن كَانَ هُذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَامْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (الأنفال: ۳۳) اور جب انہوں نے کہا: اے اللہ ! اگر یہی دین تیرے حضور سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہمیں دردناک سزادے۔ اسماعیل بن ابی خالد کی سند سے علامہ طبری نے قطنا کے معنی رِزْقَنا کئے ہیں۔ اور سعید بن جبیر سے اس کے معنی نَصِيبَنَا مِنَ الْجَنَّةِ مروی ہیں یعنی جنت سے جو ہمیں حصہ ملنا ہے ہمیں یہیں دے دے۔ (فتح الباری، جزء ۸ صفحہ ۶۹۳) لیکن پہلا قول زیادہ درست ہے۔ کیونکہ کفار بالعموم انذار پورا ہونے کا ہی مطالبہ کیا کرتے ہیں اور یہ بھی مذاقا کہتے ہیں کہ جنت و دوزخ کا جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ اسی دنیا میں پورا کر دیا جائے، انتظار میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اتَّخَذُ لَهُمْ سِخْرِيًّا : أَحَطنا بهم یعنی ہم نے ان کو چاروں طرف سے قابو میں رکھا ہوا ہے۔ اتراب بمعنی أَمثال یعنی ہم مرتبہ ، ہم نشین ۔ حضرت ابن عباس نے کہا: الآید کے معنی ہیں الْقُوَّةُ فِي الْعِبَادَةِ یعنی قدرت عبادت۔ الابصار یعنی بصیرت معرفت الہی ۔ عَنْ ذِكْرِ رَبِّی میں عَنْ بمعنی مِنْ ہے ۔ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي یعنی مال و دولت کی محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے ہے۔ طَفِقَ مَسْعًا : يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ وَعَرَاقِيبَهَا یعنی گھوڑوں کے ایال اور ان کی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ الاصفاد کے معنی ہیں بندھن۔ الرابع : " (یہ بھی) احزاب میں سے ایک لشکر (ہے) جو وہاں شکست دیا جانے ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : والا ہے۔ "