صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 243
صحیح البخاری جلد ۲۴۳ ۶۵ - كتاب التفسير / ص وَعَرَاقِيبَهَا ۔ الْأَصْفَادِ (ص: ۳۹) الْوَثَاقِ پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ الْأَصْفَادِ کے معنی ہیں بندھن۔ تشريح : أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَيَهُن لَهُمُ اقْتَدِهُ: یہ آیت سورۂ انعام سے ہے۔ بظاہر الفاظ سورہ انعام کی اس آیت نمبر ۹۱ میں سجدہ کرنے کا ذکر نہیں۔ اللہ تعالٰی سے ہدایت یافتہ لوگوں کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔ اور ان معانی کے پیش نظر حضرت ابن عباس سر بسجود ہوا کرتے تھے اور اپنے سجود سے حکم کی تعمیل کی طرف اشارہ ہوتا۔ سورہ انعام کی شرح میں یہ روایت گزر چکی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب سجود القرآن باب ۳۔ روایت سے یہ بتانا مقصود ہے کہ معانی کا خیال کر کے جہاں موقع و محل ہو وہیں انسان سر بسجود ہو۔ سورہ ص میں و فرماتا ہے : وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنْهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَرَبَّهُ وَخَرَّ وَخَرَّ رَاكِعًا وَ أَنَابَ ، فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ (ص: ۲۶) ۲۵، اور داؤد کو یقین ہوا کہ ہم نے صرف اس کی آزمائش کی ہے تو اُس نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور اطاعت کرتے ہوئے اس کے حضور گر گیا اور پورے طور پر اس کی طرف متوجہ ہوا، اس لئے ہم نے اس کی تمام کمزوریوں پر پردہ ڈالا اور انہیں دور کیا۔ عجاب بمعنى عجيب فَعِيل فعال کے وزن میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور معنوں میں زیادتی زیادتی مقصود ہوتی ہے۔ جیسے طویل سے طوال یعنی بہت لمبا۔ سريعة سے بروزن فعال سُرَاعَة یعنی بہت تیز ۔ امام ابن حجر نے اس تعلق میں شاعر کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے : تَعْدُو بِهِ سَلْهَبَةً سُرَاعَةً ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۹۲) یعنی دراز قد ، مضبوط جسم، تیز گام اونٹنی اُسے تیزی سے لئے جارہی ہے۔ الفظ کے معنی ہیں کاٹنا۔ پرزہ کاغذ کو بھی القط کہتے ہیں۔ یہ لفظ چیک (Cheque) کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی رسید یا ایسی تحریر جو بطور دستاویز کام آئے۔ (اقرب الموارد - قطط) فِي عِزَّةِ کے معنی ہیں مُعازِین۔ یعنی کہ وہ شرارت سے سرکشی کرنے والے ہیں۔ اور علامہ طبری نے قتادہ سے عزة بمعنى حمية نقل کیا ہے یعنی قومی بیچ، جنبہ داری۔ اور کسائی نے کہا کہ فی عدہ کی قراءت کے متعلق اختلاف ہے۔ قاری جحدری اور ابو جعفر سے فی غرة مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۹۳) غرق کے معنی ہیں غرور، فریب۔ جمہور کی قراءت عزة ہی ہے۔ الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ سے ملت قریش مراد لی گئی ہے۔ یعنی قریش کا مذہب و امذهب و دین بر خلاف حضرت ابن عباس اور شدی وغیرہ کے جنہوں نے الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ سے مراد نصرانیت لی ہے۔ یہ قو یہ قول قتادہ کا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۹۳) الاختلاق: الكذاب۔ یعنی جھوٹ، بناوٹ۔ الْأَسْبَاب : طُرُقُ السَّمَاءِ یعنی آسمان کے راستے، اس کے دروازے۔ فَلْیرْ تَقُوا کے متعلق پہلے بتایا جا چکا ہے۔ یعنی پاتال سے آسمان تک ساری طاقتیں جمع کر لو اور اپنے کاہنوں اور مذہبی سرداروں کو بھی لے آؤ۔ سارا زور صرف کرنے کے بعد نتیجہ صفر بلکہ تمہارے لئے نقصان دہ ہو گا۔ ابو عبیدہ نے بتایا ہے کہ عرب جب کہیں: از تقی فُلَانٌ فِي الْأَسْبَابِ تو اس سے اُن کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ دیندار ہے ، اس کا تعلق آسمان سے ہے۔