صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 242
صحیح البخاری جلد ۲۴۲ ۶۵ - كتاب التفسير /ص نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ کی پیروی کر۔حضرت داؤد بھی ان نبیوں میں سے يَقْتَدِي بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ہیں جن کی اقتداء کرنے کے لئے آپ کے نبی صلی اللہ نبی فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم کو حکم ہوا۔پس (سورۃ ص میں حضرت داؤد کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کا ذکر ہے) حضرت وَسَلَّمَ۔داؤد علیہ السلام نے سجدہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہیں سجدہ کیا۔أطرافه: ۱۰٦٩، ۳۴۲۱، ۳٤۲۲، ٠٤٦٣٢ ٤٨٠٦- عُجَابٌ (ص: ٦) عَجِيبٌ۔الْقِطُّ الصَّحِيفَةُ عُجَاب کے معنی ہیں عجیب۔القظ کے معنی ہیں وَهُوَ هَاهُنَا صَحِيفَةُ الْحَسَنَاتِ۔وَقَالَ صحیفہ اور یہاں یہ نیکیوں کے صحیفہ کے معنی میں مُجَاهِدٌ فِي عِزَّةٍ (ص:۳) مُعَاذِّینَ الْمِلَّةِ ہے۔اور مجاہد نے کہا: في عِزّة کے معنی ہیں تکبر الْأَخِرَةِ (ص:۸) مِلَّهُ قُرَيْشِ الْاخْتِلَاقُ کرنے والے۔الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ سے مراد قریش کا الْكَذِبُ الْأَسْبَابِ (ص: ۱۱) طُرُقُ مذہب ہے۔الاختلاق کے معنی ہیں جھوٹ۔الأسباب آسمان کے راستے۔یعنی اس کے السَّمَاءِ فِي أَبْوَابِهَا۔جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ دروازے۔جند ما هُنَالِكَ مَهْزُوم سے مراد مَهُرُوهُ (ص: ۱۲) يَعْنِي قُرَيْشًا۔أُولَبِكَ قریش ہیں۔(یعنی وہاں ایک فوج ہے جو شکست الْأَحْزَابُ (ص: ١٤) الْقُرُونُ الْمَاضِيَةُ۔دی جائے گی۔) اوليك الاحزاب کے معنی ہیں گزری فَوَاقِ (ص: (١٦) رُجُوع۔قِطَنَا (ص: ۱۷) ہوئی صدیاں۔فواق کے معنی ہیں لوٹنا۔قطنا عَذَابَنَا۔اَتَّخَذُ نَهُم سِخْرِيًّا (ص: ٦٤) کے معنی ہیں ہماری سزا۔اتَّخَذْ نُهُم سِخْرِیا یعنی ہم أَحَطَّنَا بِهِمْ بهم۔أَتْرَابُ (ص:٥٣) أَمْثَالُ نے ان کو گھیر لیا۔انراب کے معنی ہیں ہم مرتبہ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ : الْأَيْد (ص: ۱۸) ہم نشین۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: الآئيد کے معنی ہیں عبادت کرنے کی قوت الابصار سے الْقُوَّةُ فِي الْعِبَادَةِ الْأَبْصَارُ (ص: ٦٤) الْبَصَرُ فِي أَمْرِ اللهِ۔حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ اللهِ۔حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي (میں عَنْ بمعنی مِنْ ہے۔) یعنی ذكر ربي (ص:۳۳) مِنْ ذِكْر طفق (اپنے رب کے) ذکر کی وجہ سے۔طَفِقَ مَسْعًا مَسْعًا (ص: ٣٤) يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ کے معنی ہیں کہ گھوڑوں کے ایال اور اُن کی مراد ہے اللہ کے کاموں میں غور کرنا۔حُبّ الْخَيْرِ