صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 16 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 16

صحیح البخاری جلد -۶۵ کتاب التفسير / كهيعص هُوَ شَرٌّ مَكَانًا وَ أَضْعَفُ جُنْدان (مریم : ۷۶) یعنی کہہ کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہو ، رحمن اسے کتنی بھی ڈھیل دیتا رہے آخر وہ گھڑی آجائے گی جب وہ اس وعید کو دیکھ لیں گے جس سے انہیں خوف دلایا جارہا ہے، سزا بھی پائیں گے اور وہ کامل تباہی کی گھڑی بھی۔سو اس وقت انہیں ضرور علم ہو جائے گا کہ کون بلحاظ اپنے مکان کے بد تر ہے اور کون بلحاظ اپنے لاؤ لشکر کے سب سے زیادہ کمزور ہے۔اسی آیت کے تسلسل میں فرماتا ہے: أَفَرَيَتَ الَّذِي كَفَرَ بِأَيْتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَ مَالًا وَ وَلَدًان (مریم: ۷۸) یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور بہت سی اولاد ضرور دی جائے گی۔آیت مَنْ كَانَ فِي الضَّلَةِ کا تعلق مسیحی اقوام سے ہی ہے جن کا ذکر ان آیات کے سیاق و سباق میں ہے۔الضالین سے مراد بالاتفاق عیسائی قوم لی گئی ہے جیسا که الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود ہیں۔ظاہر ہے یہاں آیت الَّذِى كَفَرَ بالتنا میں منکرین باری تعالیٰ اور احسانات الہیہ کے ناشکر گزار لوگ مراد ہیں۔جنہیں اپنے مال و دولت اور اپنی بے شمار ذریت کی کثرت پر بڑا گھمنڈ اور ناز ہے۔فرماتا ہے: کتنی بھی کثرت و فراوانی اور کشائش حاصل ہو جائے إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةُ یہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے اور نہ تباہی کی مقدر گھڑی ٹال سکتے ہیں۔قَالَ مَوْثِقًا۔بَاب ٤ : أَطَلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (مريم : ٧٩) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یارحمن سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔عہد کے معنی ہیں : مضبوط اقرار۔( وثیقہ) ٤٧٣٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۴۷۳۳: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَفيان (ثوری) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابِ اعمش سے، اعمش نے ابوالضحی سے، ابو الضحیٰ نے قَالَ كُنْتُ قَيْنَا بِمَكَّةَ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ مسروق سے، مسروق نے حضرت خباب (بن بْنِ وَائِلِ السَّهْمِي سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ ارت) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں مکہ میں لوہاری کا پیشہ کرتا تھا اور میں نے عاص بن وائل فَقَالَ لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ سہمی کے لئے ایک تلوار بنائی۔پھر اس کے پاس قُلْتُ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ قیمت کا تقاضا کرنے آیا۔وہ کہنے لگا: جب تک تم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُمِيتَكَ محمد ( عَلَى ال ) کا انکار نہیں کرو گے میں تمہیں نہیں اللهُ ثُمَّ يُحْيِيكَ۔قَالَ إِذَا أَمَاتَنِي اللهُ دوں گا۔میں نے کہا: اللہ تمہیں مار کر پھر زندہ بھی ثُمَّ بَعَثَنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَنْزَلَ اللهُ: کر دے تو بھی میں محمد صلی اللہ علم کا انکار نہیں کرنے