صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 240
صحیح البخاری جلد ۲۴۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الصفت ” اے خداوند ! جب میں اپنے وطن ہی میں تھا اور ترسیس کو بھاگنے والا تھا تو کیا میں نے یہی نہ کہا تھا ؟ میں جانتا تھا کہ تو رحیم و کریم خدا ہے جو قہر کرنے میں دھیما اور 66 شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔“ (یوناہ باب ۲:۴) لکھا ہے کہ یوناہ شہر چھوڑ کر باہر مشرق کی طرف نکل گئے اور ایک جگہ چھپر بنا کر اس میں بیٹھے اور وہاں اپنے لئے ایک کدو کی بیل لگائی۔ وہ بڑھی اور پھیلی۔ اُس نے اُن پر سایہ کیا۔ اور ایک کیڑا اُس بیل کو کاٹنے لگا جس سے وہ سوکھ گئی اور حضرت یونس کو رنج ہوا۔ تب خداوند نے فرمایا کہ مجھے اس بیل کا اتنا خیال ہے جس کے لئے تو نے نہ کچھ محنت کی اور نہ اُسے اُگایا۔ جو ایک ہی رات میں اُگی اور ایک ہی رات میں سوکھ گئی۔ اور کیا مجھے لازم نہ تھا کہ میں اتنے بڑے شہر نینوہ کا خیال کروں جس میں ایک لاکھ میں ہزار سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے رہنے اور بائیں ہاتھ میں امتیاز نہیں کر سکتے۔ اور بے شمار مویشی ہیں۔“ (یوناہ باب ۱۱،۱۰:۴) یعنی اپنے بُرے بھلے کی تمیز نہیں کر سکتے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید میں بھی اختصار سے ہے۔ فرماتا ہے : وَ انْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَقْطِينِ ( الصَّفْت : ۱۴۷) اور ہم نے اس کے پہلو میں کے پہلو میں کدو کی بیل اگائی ۔ وَأَرْسَلْتُهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفِ أَوْ يَزِيدُونَ (الصفت: ۱۴۸) اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ آگے فرمایا: فَأَمَنُوا فَمَتَعْنُهُم إِلى حِينٍ ( الصفت: ۱۴۹) سو وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک عرصے کے لئے انہیں فائدہ پہنچایا۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کے اس خیال کا ازالہ فرمایا ہے کہ کفار مکہ جنہوں نے بڑے بڑے ظلم کئے ان پر اللہ تعالیٰ رحم نہیں فرمائے گا۔ اور اس میں ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ جس طرح رب العالمین اپنی مخلوق کے لئے رحیم و کریم ہے اسی طرح اس کے رسول بھی رحیم و کریم ہوتے ہیں۔ وہ کسی کی ہلاکت پسند نہیں کرتے۔ بلکہ انہیں دکھ ہوتا ہے۔ انذار سے صرف تنبیہ مقصود ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو زلزلوں کی پیشگوئی بحکم الہی بیان فرمائی ہے اس سے بھی خوابیدہ فطرتوں کو بیدار کرنا مد نظر ہے۔ آپ ایک فارسی نظم میں فرماتے ہیں: از زلازل جنبشی ده فطرت اغیار را تا مگر آیند ترساں سوئے آں ایوان تو چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه (۳۹۲) یعنی زلزلوں سے ناشناساؤں کی فطرت کو تحریک فرما۔ شائد اس سے خوف کھا کر تیرے دربار کی طرف رخ کریں۔ ☆☆☆