صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 239 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 239

صحیح البخاری جلد ۲۳۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الصفت ٤٨٠٥ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۴۸۰۵ : ابراہیم بن منذر (حزامی) نے مجھے بتایا کہ محمد بن ۔ ن فلیح نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي محمد بن ۔ أَبِي عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٌّ مِنْ بَنِي عَامِرٍ (صحیح بن سلیمان) نے مجھ سے بیان کیا کہ ہلال بْنِ لُؤَيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي بن علی سے کی سے روایت ہے جو بنو عامر بن لوی میں سے هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى تھے۔ (انہوں نے کہا کہ عطابن یسار سے روایت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ أَنَا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا:) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خَيْرٌ مِّنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ۔ أطرافه : ٣٤١٥، ٣٤١٦، ٤٦٠٤، ٤٦٣١۔ روایت ہے۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے یہ کہا کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اُس نے یقیناً جھوٹ کہا۔ تشريح : وَ إِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ: اور یقینا یونس مرسلین میں سے تھا۔ متعلقہ علقہ آیات یہ ہیں: اذ ابَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ۔ الصفت: ۱۴۱ - ۱۴۳) جب وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف خلاف حکم گیا اور قرعہ اندازی میں شریک ہوا۔ اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جنہیں پھینکا جانا تھا۔ اور وہیل مچھلی نے اُسے نگل لیا بحالیکہ وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا۔ حضرت یونس کا واقعہ صحف بنی اسرائیل کی کتاب یوناہ کے چار ابواب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جو یوں شروع ہوتی ہے کہ ”خداوند کا کلام یوناہ بن امتّی پر نازل ہوا کہ اُٹھ اُس بڑے شہر نینوہ کو جا اور اس کے خلاف منادی کر۔ کیونکہ اُن کی شرارت میرے حضور پہنچی ہے۔ لیکن یوناہ خداوند کے حضور سے ترسیس کو بھاگا اور یافا میں پہنچا۔“ (یوناہ باب ا: ۱-۳) اس خلاف ورزی کے پیش نظر لفظ ابق آیا ہے۔ ابوق کے معنی ہیں غلام کا اپنے آقا سے بھاگ جانا۔ ان روایتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آپ کو حضرت یونس پر فضیلت دی جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ کفار قریش نے مجھے سخت رکھ دیتے ہیں اور میری نافرمانی کی ہے اس لئے ضرور وہ تباہ کر دیئے جائیں گے۔ حضرت یونس کی قوم نے بھی اُن کی دعوت قبول نہیں کی۔ لیکن آخر اُسے توبہ کی توفیق ملی اور نینوہ شہر کے مردو زن چھوٹوں اور بڑوں نے ٹاٹ پہن کر گریہ وزاری کی اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اُن سے ٹل گیا۔ یوناہ کے چوتھے باب میں ہے کہ حضرت یونس نے خداوند سے یوں دعا کی کہ