صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 238
صحيح البخاری جلد ۲۳۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الصمت گزارے جاتے۔سورۂ صفت میں اس پرستش کارڈ مقصود ہے۔عرب ، ہندوستان و غیر ہ ایشیائی ممالک میں سورج کو دیوتا مانا جارہا تھا، جس کی بدولت زمین لگاتی اور آسمان برساتے اور انسان کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا ہو تیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اس ہمہ گیر شرک کے استیصال کا آغاز ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس کا خاتمہ ہوا۔سورۂ صفت آیت نمبر ۱۰۸ میں فرماتا ہے: وَفَدَيْنَهُ بِذِبُحٍ عَظِيمٍ O اور ہم نے اسماعیل کا فدیہ ایک بہت بڑی قربانی کے ذریعہ سے دیا۔وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْأَخِرِينَ سَلامُ عَلَى إِبْراهِيمَ ٥ (الصفت: ۱۰۹، ۱۱۰) ان آیات سے ظاہر ہے کہ اسلامی قربانی جو ہر سال عید قربان کے موقع پر کی جاتی ہے وہ اسی مبارک آزمائش کی یاد ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا امتحان ہوا اور یہ سب اس میں کامیاب ہوئے۔سورۂ صفت کا یہی اہم مضمون ہے جسے امام بخاری نے متعلقہ آیات کے حوالے سے نمایاں کیا ہے۔يَسْخَرُونَ اور يَسْتَسْخِرُونَ کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی جنسی مذاق کرتے ہیں۔فرماتا ہے: بن عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ ، وَإِذَا ذُكِرُ وا لَا يَذْكُرُونَ وَإِذَا رَأَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُونَ وَقَالُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ) الصفت: ۱۳ تا ۱۶) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تو اُن کی باتوں سے متعجب ہے اور وہ تیری باتیں حقیر سمجھتے ہیں۔جب انہیں نصیحت کی جائے تو نصیحت حاصل نہیں کرتے۔اور جب کوئی نشان دیکھیں تو ہنسی اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو کھلا کھلا جادو یعنی فریب ہے۔(کہ مرنے کے بعد ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ) صرف دنیا ہی کی زندگی ہے۔باب ۱ : وَانَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ( الصَّفت: ١٤٠) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا :) اور یونس یقینا مرسلوں میں سے تھا ٤٨٠٤ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۸۰۴ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبد اللہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَكُونَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے لئے مناسب نہیں کہ (کہے کہ ) وہ (یونس) بن متی خَيْرًا مِّن ابْنِ مَتَّى۔أطرافة: ٣٤١٢، ٤٦٠٣ - سے بہتر ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا۔ابراہیم پر سلام ہو۔“