صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 237
صحيح البخاری جلد ۲۳۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الصفت (الصفت: ۹، ۱۰) وہ ہر طرف سے دُور ہٹائے جاتے ہیں اور انہیں مستقل سزا ملتی ہے۔لفظ مدحُورًا (بنی اسرائیل: ۱۹) کے معنی جو یہاں مظرُودًا بتائے گئے ہیں بعض شارحین کے نزدیک سورہ بنی اسرائیل کے اس لفظ سے سورۃ طفت کی مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۹۰) مَدْحُورًا سے مراد سورہ بنی اسرائیل کی آیت مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ تُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَهَا مَنْ مُوْمًا قَدْ حُورًا (بنی اسرائیل: ۱۹) ہے۔یعنی جو اس دنیا کا خواہاں ہو ہم اُسے اسی دنیا میں جلدی سے عطا کر دیتے ہیں جتنا ہم چاہیں جس کے لئے ہم ارادہ کریں۔پھر جہنم کی سزا ہوتی ہے جس میں بطور ملزم داخل ہوتا ہے اور اس میں دھتکارا جاتا ہے۔دونوں آیتوں کا سیاق بالکل الگ ہے اور اس بارے میں شارحین کا خیال درست نہیں۔کیونکہ سورۂ صفت کا سیاق کلام یہ ہے کہ آسمانی نظام کی زینت روشن ستارے ہیں جنہیں ہر شیطان سرکش سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔وہ ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔اگر کوشش بھی کریں تو انہیں اُن باتوں سے دور رکھا جاتا ہے۔بيض مكنون یعنی محفوظ موتی۔ہر شے جو محفوظ رکھی جائے وہ مکنون ہوتی ہے۔ایسے ہی جو بات دل میں چھپائی جائے وہ بھی مکنون ہے بمعنی مضون۔اس سے یہ آیت مراد ہے: وَعِندَهُمْ قَصِرَاتُ الظُّرْفِ عَيْنٌ كَانَهُنَّ بَيْضُ مكنون ( الصفت: ۵۰،۴۹) اور ان کے پاس خوبصورت بڑی آنکھوں والی باحیا عورتیں ہوں گی۔شرم و حیا کی وجہ سے آنکھیں نیچے رکھیں گی، جیسے کہ وہ عورتیں خوبصورت سفید انڈے ہیں جو ڈھکے ہوئے ہیں۔(جیسے شتر مرغ کے) وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ يُذْ گر بخیر یعنی پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر خیر باقی رہے گا۔پوری آیات یہ ہیں: وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَقِيْنَ ، وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الْآخِرِينَ سَلَامٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَلَمِينَ إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ (الصفت: ۸ تا ۸۱) اور ہم نے صرف اس کی ذریت باقی رکھی اور پیچھے آنے والی قوموں میں اس کا ذکر خیر ہم نے رہنے دیا۔جہان کی تمام قوموں میں نوح پر سلامتی ہو۔ہم محسنوں ( اعلیٰ درجہ کے نیکوکاروں) کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چھ ہزار سال کا عرصہ شمار کیا گیا ہے۔الأَسْبَاب یعنی آسمان - علامہ طبری نے یہ معنی بسند علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۶۹۰) سورۂ ص آیت نمبر 11 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَمْ لَهُمْ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلَيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ O کیا آسمانوں اور زمین اور جو اُن دونوں کے درمیان مخلوقات ہیں وہاں کی بادشاہت اُن کی ہے ؟ تو پھر چاہیے کسی ذریعہ سے آسمان پر چڑھ جائیں۔جُندٌ مَا هُنَالِكَ مَهْرُوهُ مِنَ الْأَحْزَابِ (ص:۱۲) قبائل کے جتھوں کا ایک غیر منظم لشکر ہے جو شکست کھائے گا۔(اس میں غزوہ احزاب کی پیشگوئی ہے جو آسمانی خبر پر مبنی ہے ) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ حقیقت میں انسانوں کی بادشاہت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔بعلا یعنی پروردگار ، مالک۔یہ لقب سورج دیوتا کا تھا جس کے بت اور مورتیاں جگہ جگہ پوجنے کے لئے رکھے گئے تھے۔کلدانی اور بابلی سورج پرست تھے اور صرف سورج دیوتا کے لئے اولادوں کی قربانی چڑھائی جاتی اور نذرانے