صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 236
صحيح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير / الصفت وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَنَحْنُ الصَّافُونَ یعنی یہ قول حضرت ابن عباس کے نزدیک ملائکتہ اللہ کا ہے کہ ہم سب خدا تعالیٰ کے سامنے صف بستہ اس کے حکم کے انتظار میں ہیں۔نمازوں میں ہماری صف بستگی میں یہی مفہوم اطاعت شعاری کا مضمر ہے۔یعنی حکم ملتے ہی اس کی تعمیل کے لئے کھڑا ہو جائے۔اور یہ مستعدی اور حاضر باشی ملائکہ کی شان رکھتی ہے۔حضرت ابن عباس کا یہ قول کتاب بدء الخلق (باب) میں گزر چکا ہے۔سَوَاءِ الْجَحِيمِ یعنی جہنم کے عین وسط میں۔فرماتا ہے: قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُطَلِعُونَ ، فَأَ طَلَعَ فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ( الصفت : ۵۶،۵۵) انہی میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم میں سے کوئی ایسا ہے جو حیات آخرت کے منکر کا حال جھانک کر دیکھیے ؟ اس نے جھانک کر دیکھا تو اسے جہنم کے عین وسط میں دیکھا۔لَشَوبًا مِنْ حَمِيمٍ : اس سے یہ آیت مراد ہے : ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ ( الظُّفْت: ۲۸) اور اس کے علاوہ انہیں تیز اُبلتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔اس سے پہلے فرماتا ہے کہ جہنمیوں کا کھانا تھوہر جیسے درختوں کے پھل ہوں گے جن کی جڑیں جہنم میں ہیں اور پتے جیسے سانپوں کے سر ہوں۔وہ انہی کا پھل کھائیں گے اور پیٹ بھریں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کی اس کڑوی خوراک پر ڈالا جائے گا۔(الصفت: ۶۳ تا ۶۸) یہ ایک تشبیہ ہے جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں کی ہے: تم بتلاؤ کہ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت۔جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے۔وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑھ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہو تا ہے۔یہی دوزخ کی جڑھ ہے۔اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر۔شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا۔یہ لفظ شیط سے نکلا ہے۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے۔اور پھر فرمایا کہ زقوم کا درخت ان دوزخیوں کا کھانا ہے جو عمد آ گناہ کو اختیار کر لیتے ہیں۔وہ کھانا ایسا ہے جیسا کہ تانبا گلا ہوا، کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں جوش مارنے والا۔پھر دوزخی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اس درخت کو چکھ ، تو عزت والا اور بزرگ ہے۔یہ کلام نہایت غضب کا ہے۔اس کا ماحصل یہ ہے کہ اگر تو تکبر نہ کرتا اور اپنی بزرگی اور عزت کا پاس کر کے حق سے منہ نہ پھیر تا تو آج یہ تلخیاں تجھے اٹھائی نہ پڑتیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۲) دوسرے شارحین نے بھی اس بیان کو تشبیہ و تمثیل پر ہی محمول کیا ہے۔مَدْحُورًا یعنی دھتکارا ہوا۔فرماتا ہے: وَ يُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ دُحُورًا وَ لَهُمْ عَذَابٌ وَاحِبٌ