صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 235 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 235

صحيح البخاری جلد ۲۳۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الصفت میں سے طاغوتی لوگ ہیں جو حد سے بڑھنے والے اور حق کی مخالفت کرنے والے بڑے لوگ ہیں۔خواہ وہ اپنے آپ کو علماء سمجھیں یا امیر زادے اور دنیا کے کرتا دھرتا۔فرماتا ہے: بيضاء كنة الشرِبِينَ لَا فِيهَا غَوْلُ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُلْزَقُونَ (الصقت: ۴۸،۴۷) اُن کے پاس ایسے چشمے کے آب خورے لائے جائیں گے جو سفید رنگ شراب سے بھرے ہوئے ہوں گے اور پینے والوں کے لئے لذیذ۔نہ ان سے سر درد ہو گا اور نہ ان کی وجہ سے وہ عقل کھو بیٹھیں گے۔یعنی دنیوی شرابوں جیسی شراب نہ ہو گی۔قرین کے لفظی معنی ساتھی، ہمجولی کے ہیں۔لیکن یہاں مراد شیطان ہے۔یہی مفہوم فریابی نے مجاہد سے موصولاً نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۹۰) 879/29 يُهرعون یعنی وہ بھاگے آئیں گے ، تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے۔فرماتا ہے: إِنَّهُمُ الْفَوا أَبَاءهُمُ ضَاذِينَ فَهُمْ عَلَى الرِهِم يُهدعُونَ (الصفت: ۷۱،۷۰) انہوں نے اپنے باپ دادوں کو صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا پایا۔سو وہ انہی کے نقش قدم پر چلے جارہے ہیں۔یعنی بے ساختہ رواں دواں چلے جارہے ہیں، بغیر کسی تکلف کے۔یعنی ایک عادت ہو چکی ہے ، سوچ بچار کی عادت کھو بیٹھے ہیں۔پھرعُونَ کا وہی مفہوم ہے جو لفظ يَزِفُّونَ کا۔اهرام وہی چال ہے جسے عربی میں وزیف بمعنی نَسلان کہتے ہیں۔یعنی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے جلدی سے آئیں گے۔یہ مفہوم عبد اللہ بن ابی نجیح نے مجاہد سے نقل کیا ہے۔بَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا سے یہ آیت مراد ہے: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۖ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمُ لمُحْضَرُونَ ) (الصفت: ۱۵۹) اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے درمیان اور جنوں کے درمیان رشتہ تجویز کیا ہے۔حالانکہ اُن جنوں کو خوب علم ہے کہ وہ محاسبہ کے لئے حاضر کئے جائیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔سُبْحْنَ اللهِ عَمَّا يَصِفُونَ (الصفت: ۱۶۰) اللہ کی ذات پاک ہے ان سب باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔قریش کا ملائکہ کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ملائکہ کی مائیں سردارانِ جن کی بیٹیاں ہیں۔یہ خرافات سب ان کے دل و دماغ سے نکالی گئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور ایسے سرجن کام کیا جو انسان کے جسم میں آپریشن کر کے رگ وریشہ کو درست کرتا ہے۔مشرک اقوام کے اس قسم کے عقیدے قریش میں بھی سرایت کئے ہوئے تھے۔مذکورہ بالا آیت میں اسی اصلاح کا ذکر ہے۔اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ابنیت کے عقیدے کارڈ ہے۔قریش سے ایک موٹی بات پوچھنے کے لئے فرمایا گیا ہے: فَاسْتَفْتِهِمْ الرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ لَم خَلَقْنَا الْمَلَيكَة إِنَانًا وَهُمْ شَهِدُونَ ، أَلَا إِنَّهُمْ مِنْ افَهُمْ لَيَقُولُونَ وَلَدَ اللهُ وَإِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ (الصفت: ۱۵۰ تا ۱۵۳) اسی تسلسل میں مابعد کا مضمون ہے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " پس تو اُن سے پوچھ کیا تیرے رب کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں؟ یا پھر ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں ؟ خبر دار اوہ یقینا اپنی طرف سے افترا کرتے ہوئے (یہ) کہتے ہیں (کہ) اللہ نے بیٹا پیدا کیا ہے۔اور بلاشبہ یہ ضرور جھوٹے لوگ ہیں۔“