صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 234 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 234

صحیح البخاری جلد ۲۳۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الصفت (الصفت: ٦٨) يُخْلَطُ طَعَامُهُمْ وَيُسَاطُ سَوَاءِ الْجَحِيمِ اور وَسَطِ الْجَحِيمِ کے ایک ہی معنی بِالْحَمِيمِ۔ مَدْحُورًا (بنی اسرائیل: ۱۹) ہیں (یعنی جہنم کے عین درمیان) کشوبا کے معنی مَطْرُودًا ۔ بَيْضٌ مَكْنُون (الصفت : ٥٠) ہیں کہ ان کے کھانے میں گرم پانی ملایا جائے گا۔ اللُّؤْلُو الْمَكْنُونُ۔ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي مَدْحُورًا یعنی دھتکارا ہوا۔ بیض مکنون کے معنی الأخرين (الصفت: ۷۹) يُذْكَرُ بِخَيْرٍ ہیں پوشیدہ موتی۔ وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ (یعنی يَسْتَسْخِرُونَ (الصفت : ١٥) يَسْخَرُوْنَ۔ ہم نے اس کو بعد میں آنے والوں میں باقی رکھا ) بَعْلًا ( الصَّفْت : ١٢٦) رَبَّا ۔ الأسباب اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا ذکر خیر ہوتا رہے گا۔ يَسْتَسْخِرُونَ یعنی وہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ بعلا کے (ص: ۱۱) السَّمَاءُ۔ معنی ہیں رب الاسباب کے معنی ہیں آسمان۔ تشریح اللہ تعالی فرماتا ہے: لا يَسْمَعُونَ إِلَى الْمَلَا الْأَعْلَى وَ يُقْنَ قُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ دُحُورًا وَ لَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ (الصفت : ۱۰۰۹) یه سرکش شیطان ملاء اعلیٰ کی بات نہیں سنتے خواہ وہ کتنی ہی کوشش کریں۔ اور ہر طرف سے دُور ہی سے بُری طرح دھتکارے جاتے ہیں۔ اور ان کے لئے مستقل 21 دائمی سزا ہے۔ لازب کے معنی ہیں لازم، جو دائمی ہو اور ہٹنے والا نہ ہو۔ علامہ ابن حجر نے نابغہ ذبیانی کا یہ قول نقل کیا ہے : وَلَا يَحْسَبُونَ الشَّرِّ ضَرْبَةَ لَازِبٍ یعنی وہ شہر کو ایسا صدمہ نہیں سمجھتے جو دور ہونے والا نہ ہو۔ مجاہد نے يُقْذَفُونَ کے معنی يُرْمَوْنَ کئے ہیں۔ یعنی انہیں خوب مار ماری جائے گی اور ایسی سزا ملے گی کہ وہ ہٹانے سے ہٹے گی نہیں۔ کتاب احادیث الانبیاء باب اکی شرح میں لازب کا مفہوم بمعنی لازم ابو عبیدہ سے گزر چکا ہے۔ صا س يَقْدِقُونَ بِالْغَيْبِ کے معنی ہیں کہ وہ گپیں ہانکتے ہیں، اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علم جادو گر ہے، کبھی اسے کا ہن بتلاتے ہیں اور کبھی شاعر ۔ لازب کے معنی لازم بتائے گئے ہیں۔ فرماتا ہے: فَاسْتَفْتِهِمْ اهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَنْ خَلَقْنَا ۖ إِنَّا خَلَقْنَهُم مِّنْ طِيْنِ لأَرْبِ ( الصفت : ۱۲) ان سے پوچھ کیا پیدائش کے لحاظ سے ان کی پیدائش مشکل ہے یا وہ آسمانی پیدائش جو ہم نے پیدا کی ہے۔ ہم نے ان کو ایسی مٹی سے پیدا کیا ہے جو چپکنے والی ہے۔ یعنی طینی خلقت بلحاظ ظاہر و باطن ان کی فطرت کا خاصہ ہے جو اُن سے دور نہیں ہو سکتا۔ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ اس آیت میں آیا ہے: قَالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ ( الصفت : ٢٩) كفار نے شیطانوں سے کہا کہ تم ہمارے پاس حق بات کی تائید کرتے ہوئے آیا کرتے تھے۔ یعنی تمہارا پیرایہ بیان ایسا ہوتا تھا جیسا کہ تم حق کی تائید کر رہے ہو۔ لیکن اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ فریب دہی تھی۔ آیت کا یہ مفہوم فریابی نے مجاہد سے نقل کیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۸۹) اور شیطانوں سے مراد شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِن جن وانس