صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 232
صحيح البخاری جلد ۶۵ - كتاب التفسير ايس نقص و عیب سے پاک جان اور اس کا اظہار کر۔وہ ذات جس نے مخلوق پیدا کی، انہیں ایک سطح پر یکسار کیا اور جس نے ہر مخلوق میں قوتیں اور خاصیتیں پنہاں رکھیں اور انسان کی ان کی طرف رہنمائی کی۔اس آیت میں استوی کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے کہ تمام مخلوقات کی آپس میں پوری پوری مطابقت اور موافقت ہے اور انہیں ایک سطح پر استوار کیا گیا ہے اور ان میں کوئی رخنہ نہیں اور ہر مخلوق میں جو خواص رکھے گئے ہیں انسان کو ان کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔اس کی موٹی مثال جو ایک عامی بھی سمجھ سکتا ہے لسوڑے کی ہے۔اس کے پھل سے فائدہ اٹھانے کے لئے اچار تیار کیا جاتا ہے۔لسوڑوں کے چھلکے اتار کر انہیں ابالا جاتا ہے، خشک کیا جاتا ہے اور مسالا اور تیل ڈال کر کھانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ وہ ربانی رہنمائی ہے جو انسان کی فطرت کو عطا کی گئی ہے۔اسی پر قیاس کیا جائے سقمونیا، سنکھیا اور کو نین وغیرہ ادویات کا۔کس طرح مشاہدات اور تجربات کی بنا پر ان چیزوں کے خواص معلوم کئے گئے اور قیمتی فوائد ان سے حاصل کئے جار ہے ہیں۔یہ مثال ہے جس سے خَلَقَ فَسَوی اور قدر فَهَدی کی شرح واضح ہوتی ہے اور یہ تفسیر ہے استوی علی العرش کی۔انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ لقاء ربانی کی وہ شرح ہوتی ہے جس کا اوپر نَفَخْتُ فِيهِ مِن روحی میں ذکر کیا گیا ہے۔امام بخاری نے ایک ایک لفظ سے آیات کے انہی عظیم الشان معانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔بلا وجہ ان آیات کا ذکر نہیں کیا گیا۔