صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 231 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 231

صحيح البخاری جلد ٢٣١ ۶۵ - كتاب التفسيريس نظام جاری و ساری ہے، جو اسی قانون کے تحت کار فرما ہے جس کے تحت فلکی نظام۔یہ مفہوم ہے آیت کا کہ ہر شے ایک ہی خالق کی پیدا کردہ ہے۔اور اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ تمام مخلوقات ایک ہی قسم کے نظام اور قانون سے مسخر و منضبط ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عرش و گزیتی کی وضاحت سادہ الفاظ میں بیان فرمائی ہے جو ایک عامی بھی سمجھ سکتا ہے۔قاعدہ یہ ہے کہ متمثل اور ممثل بہ میں مماثلت کی بعض باتیں مشتر کہ ہوتی ہیں اور نہ مماثلت قائم نہیں رہ سکتی۔تخت شاہی اور کرسئی حکومت سے جو مماثلت الہی مملکت کو دی گئی ہے آپ نے اس کی وضاحت تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۷۹ پر کی ہے۔اس میں سورۂ حدید کی محولہ بالا آیت کی شرح ان الفاظ میں فرمائی ہے: ” خدا وہ ہے جس نے تمام زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔پھر عرش پر اُس نے استوار کیا۔یعنی کل مخلوق کو چھ دن میں پیدا کر کے پھر صفات عدل اور رحم کو ظہور میں لانے لگا۔خدا کا اُلوہیت کے تخت پر بیٹھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کے بنانے کے بعد ہر ایک مخلوق سے بمقتضائے عدل اور رحم اور سیاست کارروائی شروع کی۔یہ محاورہ اس سے لیا گیا ہے کہ جب کل اہل مقدمہ اور ارکان دولت اور لشکر باشوکت حاضر ہو جاتے ہیں اور کچہری گرم ہو جاتی ہے اور ہر ایک حق دار اپنے حق کو عدل شاہی سے مانگتا ہے اور عظمت اور جبروت کے تمام سامان مہیا ہو جاتے ہیں۔تب بادشاہ سب کے بعد آتا ہے اور تخت عدالت کو اپنے وجود باجود سے زینت بخشتا ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد۷ احاشیہ صفحہ ۲۷۹) امام بخاری نے روایت نمبر ۴۸۰۲، ۴۸۰۳ بلاوجہ مذکورہ بالا آیت کے تحت نہیں رکھی۔اس غلط فہمی سے بچانا مقصود ہے تا لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ آفتاب ہماری طرح ہی دو زانو ہو کر عرش کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔سورہ رعد آیت نمبر ۳ کے تعلق میں یہ امر نظر انداز نہیں ہونا چاہیئے کہ رب کی ملاقات سے ایسی ملاقات مراد نہیں جو عام مفہوم میں سمجھی جاتی ہے۔بلکہ یہ ملاقات اس حقیقت پر مبنی ہے جس کا ذکر صحف قدیمہ کی کتاب پیدائش میں بار بار کیا گیا ہے۔یعنی یہ کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مانند پیدا کیا ہے اور قرآن مجید میں اس پیدائش کو نَفَخُتُ فِيهِ مِنْ رُوحی (الحجر :۳۰) فرمایا ہے۔یعنی یہ کہ میں نے اپنی روح اس میں پھونکی۔یعنی انسان صفات الہی کا مظہر بنایا گیا۔اور یہ صفات دو طرح سے انسان میں اپنے کمال کو پہنچ رہی ہیں۔ایک روحانی طریق سے جو انبیاء علیہم السلام کا طریق ہے اور دوسرا کائنات عالم اور اس کی پنہاں قوتوں کے مطالعہ سے۔چنانچہ فرماتا ہے: سبح اسم ربك الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدیه ( الأَعْلَى : ۲-۴) یعنی اپنے رب اعلیٰ کی تسبیح کر اور اسے ہر